1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پابندی کے باوجود اسپین میں مظاہرے

اسپین میں علاقائی انتخابات کے موقع پر مظاہروں پر عائد پابندی کی پرواہ نہ کرتے ہوئے شہری ملک میں بے روزگاری اور مہنگائی کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔ اسپین میں اتوار کے روز علاقائی اور بلدیاتی انتخابات منعقد ہو رہے ہیں۔

default

عینی شاہدین کے مطابق میڈرڈ کے مرکزی حصے میں تقریبا 20 ہزار افراد نے ملک میں بے روزگاری میں اضافے اور مالیاتی بحران کی وجہ سے حکومت کی طرف سے اٹھائے جانے والے ہنگامی معاشی اقدامات کے خلاف مظاہرہ کیا۔ اتوار کو انتخابات کے موقع پر ملک میں ہر طرح کے سیاسی اجتماعات پر پابندی عائد ہو چکی ہے۔ اسپن کے سپریم کورٹ اور آئینی کورٹ نے بھی اس فیصلے کو برقرار رکھا ہے تاہم مظاہروں میں شریک زیادہ تر نوجوان ان تمام حکومتی اعلانات کو مانتے دکھائی نہیں دیتے۔

مظاہرے میں شریک 25 سالہ Inma Moreno نے خبر رساں ادارے روئٹرز سے بات چیت میں کہا، ’میں احتجاج میں حصہ لے رہا ہوں کیونکہ اسپین میں میرا کوئی مستقبل نہیں، میں نے سیاحت میں ڈگری حاصل کی ہے تاہم مجھے نوکری نہیں مل رہی۔ اس احتجاج سے ملکی سیاسی قیادت کو معلوم ہو گا کہ کچھ نہ کچھ خرابی ضرور ہے‘۔

جمعے کے روز چند نوجوان مظاہرین نے روئٹرز سے ان خدشات کا اظہار بھی کیا کہ پولیس ممکنہ طور پر مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن بھی شروع کر سکتی ہے۔ تاہم ملک میں حکمران سوشلسٹوں کا کہنا ہے کہ پولیس مظاہروں پر عائد پابندی پر عملدرآمد کے لیے طاقت کا استعمال نہیں کرے گی۔ وزیرداخلہ Alfredo Perez Rubalcaba نے صحافیوں سے بات چیت میں کہا، ’ایک مسئلے کے حل کے لیے پولیس کو ایک نیا مسئلہ کھڑا نہیں کر دینا چاہیے‘۔

NO FLASH Spanien Madrid Demonstration

مظاہروں میں بڑی تعداد میں نوجوان شریک ہیں

واضح رہے کہ یورپی یونین میں بے روزگاری کے شرح کے اعتبار سے اسپین سرفہرست ہے، جہاں بے روزگاری کی شرح 21.3 ہے، جبکہ اسپین میں 45 فیصد نوجوان بے روزگار ہیں۔ اسپین میں مالیاتی بحران کے باعث حکومت کی جانب سے سخت بچتی پیکیج کا اعلان کیا گیا، جس کے تحت ملازمتوں اور حکومتی اخراجات میں کٹوتی کے اقدامات اٹھائے گئے تھے۔

رپورٹ : عاطف توقیر

ادارت : عاطف بلوچ

DW.COM