1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پابندی کے باوجود اسپین میں مظاہرے جاری

اسپین میں مقامی انتخابات سے صرف ایک روز قبل یعنی ہفتے کو ہزاروں ہسپانوی باشندوں نے ملک میں بے روزگاری میں اضافے کے خلاف دارالحکومت میڈرڈ کے مرکز میں مظاہرہ کیا۔

default

انتخابات کے موقع پر اسپین میں قانونی طور پر اس وقت ہر قسم کے مظاہرے اور احتجاج سمیت کسی بھی سیاسی اجتماع پر پابندی عائد ہے تاہم ہسپانوی باشندوں کی بڑی تعداد اس قانونی پابندی کی پرواہ کئے بغیر ملک میں بے روزگاری اور مہنگائی میں اضافے پر سراپا احتجاج ہے۔

ان مظاہروں میں ابتدا میں زیادہ تر نوجوان شریک تھے، تاہم ہفتے کے روز میڈرڈ میں ہونے والے ایک بڑے احتجاجی مظاہرے میں ہرعمر کے لوگ دکھائی دیے۔ ان پرامن مظاہرین نے مالیاتی بحران اور بچتی پیکیج کے حوالے سے حکومت کے خلاف نعروں پر مبنی پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے۔ میڈرڈ میں مظاہروں کا یہ سلسلہ گزشتہ ایک ہفتے سے جاری ہے، جس میں روز بروز تیزی دیکھی جا رہی ہے۔

اطلاعات کے مطابق میڈرڈ کے مرکزی حصے میں تقریبا 30 ہزار لوگ ابھی تک سڑکوں اور گلیوں ہی میں براجمان ہیں۔ حکومت کی جانب سے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے طاقت کے استعمال کا کوئی اشارہ نہیں دیا گیا ہے۔

Spanien Granada Demonstration

مظاہرین میڈرڈ کی سڑکوں پر

ماہرین کا خیال ہے کہ ملکی مالیاتی صورتحال کے تناظر میں حکمران سوشلسٹوں کو انتخابات میں شکست کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔

میڈرڈ کے علاوہ ہفتے کے روز بارسلونا سمیت ملک کے دیگر علاقوں میں بھی اسی قسم کے احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔ ان مظاہروں میں عوام سے اپیل کی جا رہی ہے کہ وہ اسپین میں دونوں ہی بڑی جماعتوں کو ووٹ نہ دیں۔

آج اتوار کے انتخابات کے ذریعے اسپین میں آٹھ ہزار ایک سو سولہ سٹی کونسلز کا قیام عمل میں آنا ہے۔

اسپین بے روزگاری کی شرح کے اعتبار سے یورپی یونین میں سرفہرست ملک ہے، جہاں بے روزگاری کی شرح 21 اعشاریہ تین فیصد ہے جبکہ نوجوانوں میں یہ شرح تقریبا 45 فیصد بنتی ہے۔

رپورٹ : عاطف توقیر

ادارت : عاطف بلوچ

DW.COM