1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پابندیوں کی کوئی پرواہ نہیں، شمالی کوریا کے نئے میزائل تجربات

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے شمالی کوریا کے خلاف مزید سخت پابندیاں عائد کیے جانے کے چند گھنٹوں بعد ہی پیونگ یانگ حکومت نے نئے میزائل تجربات کیے ہیں۔ ان تجربات میں چھ میزائل سمندر میں داغے گئے۔

جنوبی کوریا کی وزارت دفاع نے بتایا کہ کم فاصلے تک مار کرنے والے ان میزائلو ں کا تجربہ مشرقی ساحلوں کے قریب کیا گیا۔ وزارت کے مطابق چھ راکٹ یا گائیڈڈ میزائل شمالی کوریا سے 100 سے 150 کلومیٹر کی دوری پر سمندر میں گِرے۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق بین الاقوامی دباؤ کے رد عمل میں شمالی کوریا کی جانب سے محدود پیمانے پر ملٹری فائر پاور کا اظہار ایک معمول ہے۔

بدھ دو مارچ کی شب سلامتی کونسل نے پیونگ یانگ کی جانب سے ہائیڈروجن بم اور میزائل تجربوں کے رد عمل میں پہلے سے عائد پابندیوں کو مزید سخت کرنے کی قرارداد اتفاق رائے سے منظور کی۔ یہ پابندیاں شمالی کوریا کی جانب سے چوتھے جوہری تجربے اور پھر ایک راکٹ تجربے کے تناظر میں سخت کی گئی ہیں۔ نئی پابندیوں کے مطابق تمام ممالک کو اس بات کا پابند بنایا گیا ہے کہ تمام ممالک کے تمام ایئرپورٹس یا بندرگاہیں شمالی کوریا سے آنے یا وہاں جانے والے تمام کارگو کی جانچ پڑتال کریں۔ ان پابندیوں کے مطابق شمالی کوریا سے کوئلہ، فولاد، سونا، ٹائٹینیم اور نایاب معدنیات نہیں خریدی جا سکیں گی جبکہ اس ملک کو جہازوں اور میزائلوں کے لیے ایندھن بھی فروخت نہیں کیا جائے گا۔

شمالی کوریا نے چھ جنوری کو جوہری اور سات فروری کے راکٹ تجربہ کیا تھا

شمالی کوریا نے چھ جنوری کو جوہری اور سات فروری کے راکٹ تجربہ کیا تھا

اقوام متحدہ میں امریکی سفیر سمانتھا پاور نے سلامتی کونسل کو بتایا کہ شمالی کوریا ہر سال کوئلے کی برآمد سے ایک بلین امریکی ڈالرز کے برابر کماتا ہے جو اس کی کُل برآمدات کا ایک تہائی بنتی ہیں۔ اس کے علاوہ قریب 200 ملین ڈالرز فولاد کی برآمدات سے۔

تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا کے خلاف منظور کی جانے والی نئی قرار داد میں کئی ایک ایسی چیزیں موجود ہیں جن کا فائدہ شمالی کوریا کو پہنچ سکتا ہے۔ مثال کے طور پر شمالی کوریا سے ایسی صورت میں معدنیات کی برآمد کا امکان کھُلا چھوڑا گیا ہے جب اس سے حاصل ہونے والی آمدنی فوجی مقاصد کے لیے استعمال نہ ہو سکتی ہو۔

امریکی صدر باراک اوباما نے سلامتی کونسل کی طرف سے متفقہ طور پر منظور کی جانے والی قرارداد کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے ’چھ جنوری کے جوہری اور سات فروری کے راکٹ تجربے‘ کا مناسب رد عمل قرار دیا ہے۔ اوباما کے مطابق، ’’بین الاقوامی برادری نے، یک زبان ہو کر پیونگ یانگ کو ایک سادہ پیغام بھیجا ہے: شمالی کوریا کو لازمی طور پر اپنے خطرناک پروگراموں کو ترک کر دینا چاہیے اور اپنے عوام کے لیے ایک بہتر راستہ اپنانا چاہیے۔‘‘