1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پابندیوں کا خوف، بیلا روس میں حکومت مخالف7 افراد کی رہائی

بیلا روس نے پابندیوں کے اعلان کے بعد گزشتہ برس گرفتار کیے گئے سات حکومت مخالفین کو رہا کر دیا ہے۔ ان میں سابق صدارتی امیدوار بھی شامل ہیں۔ حکام نے گرفتارشدگان پر قائم مقدموں کی سماعت کے آغاز کی بھی یقین دہانی کرائی ہے۔

default

یورپی یونین کی جانب سے منسک حکام پر پابندیاں عائد کیے جانے کے اعلان کے بعد بیلا روس نے سات حکومت مخالفین افراد کو رہا کر دیا ہے۔ یورپی یونین نے ابھی چند روز قبل ہی بیلا روس پر نئے سرے سے پابندیاں عائد کرنے کی بات کی تھی۔ یورپی یونین کا موقف ہے کہ بیلا روس میں متنازعہ صدارتی انتخابات، منسک حکام کی جانب سے ملکی اپوزیشن کے خلاف طاقت کے بے جا استعمال اور جمہوریت مخالف اقدامات کی وجہ سے یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس بارے میں حتمی طور پر یورپی یونین کے وزرائے خارجہ پیر کے روز برسلز میں ہونے والے اپنے اجلاس میں فیصلہ کریں گے۔

بیلا روس کی پولیس نے اعلان کیا ہےکہ 64 سالہ ولادی میر نیکلایووسمیت مزید چھ افراد کو رہا کیا گیا ہے۔ سابق صدارتی امیدوار اور شاعر نیکلایوو کو گزشتہ برس اس وقت گرفتار کرتے ہوئے تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا، جب وہ ایک مظاہرے میں شریک ہونے کے لیے گھر سے نکلے تھے۔ ساتھ ہی ایک اور سابق صدارتی امیدوار اندرے سانیکوف کی اہلیہ کو بھی رہا کیا گیا ہے۔ یہ دونوں گزشتہ برس سے نظر بند تھے۔

NO FLASH Alexander Lukaschenko

بیلا روس کے صدر لوکاشینکو پر اس سے قبل بھی پابندیاں عائد کی جا چکی ہیں

مغربی ممالک ایک طویل عرصے سے بیلا روس میں انسانی حقوق کی صورتحال پر تنقید کرتے آ رہے ہیں۔ اسی وجہ سے انہوں نے صدر لوکاشینکو پر زور ڈالا ہے کہ گزشتہ برس 19 دسمبر کو ہونے والے صدارتی انتخابات کے خلاف مظاہرہ کرنے والے افراد کو رہا کیا جائے۔ غیر ملکی مبصرین کی رپورٹ میں بھی یہ امر واضح کیا گیا تھا کہ ان انتخابات میں بڑے پیمانے پر دھاندلی ہوئی ہے۔

منسک حکام نے یقین دہانی کرائی ہےکہ گرفتار شدگان کے خلاف قائم مقدموں کی سماعت اگلے ماہ سے شروع کر دی جائے گی۔

اس سے قبل2006ء میں بھی یورپی یونین نے بیلا روس پر پابندیاں عائد کی تھیں۔ تاہم دو سال بعد ان میں نرمی کر دی گئی تھی۔ تاہم اس مرتبہ پابندیوں کے دائرے میں 156 افراد کو شامل کیا گیا ہے۔ بیلا روس کی حکومت اور سلامتی کے اداروں سے تعلق رکھنے والے یہ افراد یورپی یونین میں بھی داخل نہیں ہو سکیں گے۔ اس کے علاوہ ان کی املاک اور کاروبار کو منجمد کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔ ان میں صدر لوکاشینکو بھی شامل ہیں۔

رپورٹ: عدنان اسحاق

ادارت: عاطف توقیر

DW.COM