پابندیاں، چین نے شمالی کوریا سے لوہے کی درآمد روک دی | حالات حاضرہ | DW | 14.08.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پابندیاں، چین نے شمالی کوریا سے لوہے کی درآمد روک دی

چین نے اعلان کیا ہے کہ وہ شمالی کوریا سے لوہے، کوئلے اور مچھلیوں کی درآمد بند کر رہا ہے۔ یہ فیصلہ اقوام متحدہ کی سلامی کونسل کی جانب شمالی کوریا کے خلاف عائد کی جانے والی تازہ پابندیوں کے تناظر میں کیا گیا ہے۔

شمالی کوریا نے حالیہ کچھ عرصے میں سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف وزری کرتے ہوئے پے در پے میزائل تجربات کیے ہیں، جن میں بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کے تجربات بھی شامل ہیں۔

چینی وزارت تجارت کی ویب سائٹ پر جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ شمالی کوریا سے کوئلے، لوہے، خام لوہے، سیسے اور مچھلیوں کی درآمد روک دی گئی ہے۔ منگل کے روز اس بیان میں کہا گیا ہےکہ شمالی کوریا سے مذکورہ اشیاء کی درآمد پر اب ’مکمل پابندی‘ عائد کر دی گئی ہے۔

China Nordkorea Grenze Flaggen (Getty Images/K. Frayer)

اقوام متحدہ نے شمالی کوریا پر مزید سخت پابندیاں عائد کر دی ہیں

بیجنگ حکومت نے اس سے قبل اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ وہ اقوام متحدہ کی جانب سے اپنے ہم سائے پر عائد کی جانے والی بین الاقوامی پابندیوں کی قرارداد کی مکمل پاس داری کرے گا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس سے قبل بیجنگ حکومت پر الزام عائد کیا تھا کہ چین شمالی کوریا کا اہم اتحادی اور تجارتی پارٹنر ہے اور پیونگ یانگ حکومت پر اُس کے جوہری پروگرام کو ترک کرنے کے لیے کافی دباؤ نہیں ڈال رہا۔

چینی وزیر خارجہ وانگ ژی نے اس کے جواب میں کہا تھا کہ اقوام متحدہ کی جانب سے شمالی کوریا پر عائد کی جانے والی پابندیوں پر مکمل طور پر عمل درآمد کیا جائے گا۔ ’’ان پابندیوں پر یقینی طور پر سو فیصد عمل درآمد کیا جائے گا۔‘‘

چھ اگست کو سلامتی کونسل کی جانب سے عائد کردہ ان پابندیوں کے تحت شمالی کوریا کی سالانہ بنیادوں پر ایک ارب ڈالر کی برآمدات کو ہدف بنایا گیا ہے۔

اقوام متحدہ نے یہ پابندیوں شمالی کوریا کے اس بین البراعظمی میزائل تجربے کے بعد عائد کی ہیں، جس کے بارے میں کہا جا رہا تھا کہ اب پیونگ یانگ غالباﹰ جوہری ہتھیاروں کو امریکی سرزمین تک لے جانے تک کی صلاحیت کے انتہائی قریب پہنچ چکا ہے۔