1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پابندیاں ختم، امریکی ہوائی اڈوں پر مسافروں کے آنسو

سات مسلم اکثریتی ممالک کے شہریوں پر امریکا میں داخلے پر پابندیوں سے متعلق احکامات پر عمل درآمد ایک عدالت کی طرف سے روک دیے جانے کے بعد ان ممالک کے شہری اپنوں سے جا ملے۔

اتوار کے روز ایک امریکی وفاقی عدالت کی جانب سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سات مسلم ممالک کے شہریوں کے ملک میں داخلے پر پابندیوں کے خاتمے کے بعد ایک دوسرے سے بچھڑے کئی خاندان ایک دوسرے سے آن ملے۔

عدالتی حکم نامہ سامنے آنے کے بعد امریکا جانے والی تمام ایئرلائنز نے تمام افراد کو سفر کی اجازت دے دی۔ خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق نیویارک کے کینیڈی ایئرپورٹ پر ایک وکیل نے بتایا کہ اس عدالتی فیصلے کے بعد ایران، عراق اور پابندی کے شکار دیگر ممالک کے ایسے شہری جن کے پاس امریکی ویزا تھا یا وہ گرین کارڈ کے حامل تھے، بلا روک ٹوک امریکا پہنچ رہے ہیں۔

نیویارک کی امیگریشن کوالیشن نامی کمپنی سے وابستہ وکیل کامیلے میکلر کے مطابق، ’اب معاملہ پھر سے عام حالت کو لوٹ گیا ہے۔‘‘

32 سالہ ایرانی مصور فاریبا تاج رستمانی کا کہنا ہے کہ وہ جب نیویارک کے کینیڈی ہوائی اڈے سے باہر آئیں، تو ان کی آنکھوں میں آنسو اور چہرے پر مسکراہٹ تھی اور ایسے میں ان کے بھائی ان سے بغل گیر ہو گئے۔

’’مجھے خوشی ہے۔ میں نے اپنے بھائی کو پچھلے نو ماہ سے نہیں دیکھا تھا۔‘‘

Die schlimmsten Airports der Welt (Bildergalerie) Kathmandu Tribhuvan International (Prakash Mathema/AFP/Getty Images)

عدالتی فیصلے کے بعد ہوائی اڈوں پر جذباتی مناظر دیکھنے میں آئے

تاج رستمانی نے ایک ہفتے قبل ترکی کے راستے امریکا پہنچنے کی کوشش کی تھی، تاہم انہیں روک دیا گیا تھا۔ ’’میں رو رہی تھی اور انتہائی افسردہ تھی۔ میرے دماغ میں سب کچھ تھا کہ اب کیا کچھ ہو سکتا ہے۔ مجھے ہر چیز پر افسوس ہو رہا تھا۔ مجھ لگ رہا تھا، سب کچھ ختم ہو گیا۔‘‘

تاج رستمانی کا کہنا ہے کہ انہیں امید ہے کہ وہ امریکا میں آرٹ کی تعلیم حاصل کر سکیں گیں اور ڈیلاس میں مقیم اپنے شوہر کے پاس پہنچ جائیں گی۔ ان کے شوہر چھ ماہ قبل ایران سے امریکا منتقل ہوئے تھے اور اب ان کے پاس گرین کارڈ ہے، جب کہ وہ ایک کارڈیلر کمپنی میں کام کر رہے ہیں۔

 ایک وفاقی جج کی جانب سے امریکی صدر کے پابندیوں سے متعلق حکم نامے کو معطل کرنے کے فیصلے کے چند ہی گھنٹوں بعد امریکا بھر کے ہوائی اڈوں پر ایسے ہی مناظر دیکھے جانے لگے۔ ایک وفاقی اپیل کورٹ نے ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے عدالتی فیصلے پر نظرثانی کی درخواست دائر کی تھی، تاہم اسے بھی مسترد کر دیا گیا۔

امریکی صدر ٹرمپ نے شام، عراق، ایران، سوڈان، صومالیہ، لیبیا اور یمن کے شہریوں کے امریکا میں داخلے پر پابندیاں عائد کی تھیں، جس کے بعد امریکی حکام نے ایک ہفتے میں قریب ساٹھ ہزار غیرملکیوں کے ویزے منسوخ کر دیے۔ ٹرمپ نے اگلے چار ماہ کے لیے تمام مہاجرین کے ملک میں داخلے پر پابندیاں عائد کر دی ہیں، جب کہ شامی مہاجرین پر یہ پابندی غیرمعینہ مدت کے لیے ہے۔