1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پائیدار ترقی جمہوریت کے بغیر ممکن نہیں، صدر ممنون حسین

پاکستانی صدر ممنون حسین نے پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں پائیدار ترقی جمہوریت کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ ان کے بقول پاکستان میں جمہوریت اب اتنی مستحکم ہے کہ وہ کئی بحرانوں سے نبرد آزما ہو سکتی ہے۔

پارلیمان کے اس مشترکہ اجلاس کی صدارت اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق اور چیئرمین سینیٹ رضا ربانی نے مشترکہ طور پر کی۔ حزبِ اختلاف نے کچھ مواقعوں پر پانامہ لیکس کا شور مچایا لیکن مجموعی طور پر اپوزیشن ارکان نے صدر کی تقریر کو تحمل سے سنا۔ وزیرِ اعظم نواز شریف علالت کی وجہ سے اس اجلاس میں شرکت نہیں کر سکے۔
سیاسی ماہرین کے خیال میں صدر کی جانب سے یہ بیان ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب ملک میں جمہوریت کے مستقبل کے حوالے سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں اور یہ چہ مگوئیاں بھی زبان زدِ عام ہیں کہ جمہوری نظام خطرات سے دوچار ہو سکتا ہے۔ تجزیہ نگاروں کے خیال میں منگل کو سینیٹ کے چیئرمین رضا ربانی نے بھی اپنے ایک بیان میں کچھ ایسے اشارے دیے تھے، جس سے عوام میں یہ تاثر جاتا ہے کہ جمہوری نظام کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

China Pakistans Präsident Mamnoon Hussain trifft Xi Jinping

سارے پڑوسیوں سے تعلقات کشیدہ ہیں لیکن ممنون حسین صاحب نے چین کی بانسری بجائی، عثمان کاکڑ


اب پاکستانی ذرائع ابلاغ صدر مملکت کی تقریر پر بحث و مباحثہ کر رہے ہیں۔ حکومت کے ارکان اس تقریر پر مطمئن نظر آتے ہیں۔ خانیوال سے رکن قومی اسمبلی اسلم بودلہ نے ڈوئچے ویلے کو بتایا،’’صدر مملکت نے ایک متوازن تقریر کی۔ انہوں نے معیشت میں نظر آنے والی بہتری کا تذکرہ کیا اور ان تمام موضوعات کا احاطہ کرنے کی کوشش کی، جو بحیثیت صدر انہیں کرنا چاہیے تھا۔ انہوں نے حزبِ اختلاف کے مجموعی رویے کی تعریف کی اور کہا یہ پاکستان میں جمہوریت کی پختگی کی ایک نشانی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اجلاس میں نواز شریف کی عدم موجودگی کو شدت سے محسوس کیا گیا۔‘‘
ن لیگ کے ارکان کے برعکس دوسری جماعتوں سے وابستہ ارکان نے تقریر پر مایوسی کا اظہار کیا۔ سینیٹر عثمان کاکڑ نے ڈی ڈبلیو کو بتایا،’’صدر وفاق کی علامت ہوتا ہے اور اسے چھوٹی قومیتیوں کے حقوق پر بات کرنی چاہیے تاکہ ان کے احساسِ محرومی کا مداوا ہوسکے۔ بلوچ اور پختونوں کے ساتھ نہ انصافیاں ہورہی ہیں۔ چھوٹے صوبوں کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ سی پیک کے منصوبے میں مغربی راستے کو نظر انداز کر دیا گیا ہے۔ وہاں کوئی ترقیاتی کام نہیں ہو رہے لیکن صدر نے اس حوالے سے کوئی بات نہیں کی۔ سینیٹ وفاق کی علامت ہے، اس کے اختیارات پر بھی صدر خاموش رہے۔ ہمارے سارے پڑوسیوں سے تعلقات کشیدہ ہیں لیکن ممنون حسین صاحب نے چین کی بانسری بجائی۔ انہوں نے لکھی ہوئی تقریر کی جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ریاست اور ان کے مسائل کے حوالے سے ان کا کوئی وژن نہیں ہے۔ قومی زبانوں پشتو، بلوچی، سندھی اور سرائیکی کے حوالے سے بھی کوئی بات نہیں کی۔ صدر مملکت نے حکومت اور اپنی پارٹی کی ترجمانی کی، جس سے یہ محسوس ہوا کہ وہ وفاق کے نمائندے نہیں ہیں۔‘‘

China Pakistans Präsident Mamnoon Hussain trifft Xi Jinping

صدر مملکت نے ایک متوازن تقریر کی، اسلم بودلہ

ایم کیو ایم کی سینیٹر نسرین جلیل نے بھی صدر کی تقریر کو ہدفِ تنقید بنایا۔’’ہمیں مایوسی ہوئی کہ سندھ کے شہری علاقوں میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر صدر صاحب نے ایک لفظ بھی نہیں کہا۔ اسلامی نظریاتی کونسل نے حال ہی میں متنازعہ بیانات دیے، صدر کو اس پر بات کرنی چاہیے تھی اور خواتین کو یقین دہانی کرانی چاہیے تھی کہ ان کے حقوق کا مکمل تحفظ کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ توہین رسالت کے قوانین کے غلط استعمال کے حوالے سے بھی کچھ کہا جانا چاہیے تھا لیکن ایسا نہیں ہوا۔ صدر نے حکومت کو کوئی گائیڈ لائن بھی نہیں دی، جو کہ بحیثیت سربراہِ مملکت انہیں کرنا چاہیے تھا۔‘‘

پاکستانی ذرائع ابلاغ نے جہاں اس خطاب کو براہ راست دکھایا، وہیں اجلاس میں خصوصی طور پر شرکت کرنے والے پاک فوج کے سپہ سالار راحیل شریف بھی مرکزِ نگاہ بنے رہے۔ اجلاس کے اختتام پر اُنہیں مولانا فضل الرحمن سمیت کچھ اور اراکین پارلیمنٹ سے مصافحہ کرتے ہوئے دکھایا گیا۔ اس موقع پر میڈیا سے غیر رسمی بات چیت کرتے ہوئے راحیل شریف نے کہا،’’آپریشن ضربِ عضب کامیابی کی طرف گامزن ہے۔ میں نے پہلے ہی کہا تھا کہ یہ سال دہشت گردی کے خاتمے کا سال ہے۔ ضربِ عضب کو اسی سال ختم کرنے کا عزم کر رکھا ہے۔ 56 فیصدآئی ڈی پیزکی واپسی مکمل ہو چکی ہے۔ جنوبی اور شمالی وزیرستان میں ترقی کا عمل تیزی سے جاری ہے۔ دہشت گردوں کو کسی صورت کلیئر علاقوں میں واپس نہیں آنے دیں گے۔‘‘