1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کا آغاز، بدعنوانی کے خطرات

بھارت میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے کوالیفائنگ مرحلے کا آغاز آج منگل آٹھ مارچ سے ہو گیا ہے۔ اس موقع پر انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے خبردار کیا ہے کہ میچ فکسنگ کرنے والے، چھوٹی یا نئی ٹیموں کو استعمال کر سکتے ہیں۔

ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائنگ مرحلے میں پہلا میچ ہانگ کانگ کا زمبابوے کے ساتھ ہو رہا ہے تاہم کرکٹ کے میدان میں یہ نسبتاﹰ نئی ٹیم بدعنوانی کے اسکینڈل کا شکار ہو چکی ہے جس کے نتیجے میں اس ٹیم کے آل راؤنڈر کھلاڑی عرفان احمد کو معطل کر دیا گیا تھا۔

ٹورنامنٹ کے آغاز سے قبل گزشتہ روز انٹرنیشل کرکٹ کونسل کے چیف ایگزیکٹو ڈیوڈ رچرڈسن نے کہا کہ یہ بات واضح ہے کہ ٹیسٹ میچ کھیلنے کا درجہ نہ رکھنے والے ممالک، جنہیں ایسوسی ایٹ ممبرز کہا جاتا ہے، بدعنوانی کا شکار ہونے کے زیادہ خطرات سے دو چار ہیں۔ ان کا کہنا تھا، ’’بدقسمتی سے یہ وہ دنیا ہے جس میں ہم رہ رہے ہیں۔ یہاں بدعنوان افراد موجود ہیں جو کھلاڑیوں کو قابو کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘‘

رچرڈسن کا مزید کہنا تھا، ’’ہمیں معلوم ہوا ہے کہ بدعنوانی کرنے والے افراد اب ایسوسی ایٹ ارکان اور خواتین کی ٹیموں وغیرہ کو فوکس کر رہے ہیں۔ لہٰذا ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ تمام ٹیموں کے کھلاڑی اس حوالے سے علم رکھتے ہوں، اپنی ذمہ داریوں کو سمجھتے ہوں اور ان معاملات میں ملوث نہ ہوں۔‘‘

ہانگ کانگ اُن آٹھ ٹیموں میں شامل ہے جو ٹورنامنٹ کے حتمی مرحلے کے لیے کوالیفائی کرنے کی کوشش کریں گی۔ تاہم اس ٹیم کی تیاریوں کو اُس وقت دھچکا پہنچا جب رواں برس جنوری میں اس کے ایک اہم کھلاڑی عرفان احمد کو بدعنوانی کے ایک اسکینڈل میں ملوث ہونے کے شبے میں آئی سی سی نے معطل کر دیا تھا۔ اس اسکینڈل کے بارے میں تحقیقات ابھی جاری ہیں۔

کوالیفائنگ مرحلے میں شریک ٹیموں میں افغانستان بھی شامل ہے

کوالیفائنگ مرحلے میں شریک ٹیموں میں افغانستان بھی شامل ہے

آئی سی سی کے اینٹی کرپشن یونٹ کے سربراہ رونی فلینگن Ronnie Flanagan نے اتوار کے روز ایک پریس کانفرس میں کہا تھا کہ ان کے تفتیش کار ان الزامات کا جائزہ لے رہے ہیں، جن کے مطابق ’’ایک خاص ٹیم کے ارکان میچوں میں ساز باز کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔‘‘ تاہم فلینگن نے اس بارے میں مزید تفصیلات نہیں بتائی تھیں۔

آئی سی سی کے چیف ایگزیکٹو ڈیوڈ رچرڈسن نے بھی اپنی نیوز کانفرنس میں ٹیم کا نام تو نہیں لیا لیکن اس کی ایک طرح سے تصدیق کر دی کہ فلینگن کا یونٹ جس ٹیم کے بارے میں تحقیقات کر رہا ہے وہ ہانگ کانگ ہی ہے۔

جنوبی افریقہ کے سابق کھلاڑی رچرڈسن نے تاہم امید ظاہر کی ہے کہ ٹورنامنٹ بغیر کسی بدعنوانی کے ہو گا، ’’میں جانتا ہوں کہ ہمارا اینٹی کرپش یونٹ بھارت میں قانون نافذ کرنے والے اداروں اور پولیس کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے تاکہ ہر قسم کی معلومات کا تبادلہ کیا جا سکے۔‘‘

کوالیفائنگ مرحلے میں شریک ٹیموں میں ہانگ کانگ اور زمبابوے کے علاوہ افغانستان، اسکاٹ لینڈ، ہالینڈ، آئرلینڈ اور عمان کے علاوہ ایشیا کپ کے فائنل تک پہنچنے والی ٹیم بنگلہ دیش بھی شامل ہے۔