1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

ٹی بی کی فوری تشخیص میں حیرت انگیز پیش رفت

بھارتی محقیقین کے مطابق وہ سانس کے ذریعے سونگھ کر ٹی بی کی تشخیص کرنے والے آلے الیکٹرک نوز کی تیاری کے بہت قریب ہیں۔ اس آلے کی تیاری کے بعد ٹی بی جیسے موذی مرض کی جلد تشخیص سے لاکھوں افراد کی زندگیوں کو بچایا جا سکے گا۔

default

ٹی بی سے ہر سال پوری دنیا میں لگ بھگ سترہ لاکھ افراد ہلا ک ہو جاتے ہیں

الیکٹرک نوز نامی یہ آلہ بیٹری سے چلے گا۔ اس کی ساخت بالکل اُس آلے کی طرح ہے، جو پولیس جسم میں الکوحول کی مقدار جانچنے کے لیے استعمال کرتی ہے۔ پولیس کو اگر شبہ ہو جائے کہ کوئی شخص شراب پی کر ڈرائیونگ کر رہا ہے تو وہ اس سے ایک سیٹی جیسے آلے میں پھونک مارنے کا کہتے ہیں، جس سے فوری طور پر جسم میں الکوحول کی مقدار معلوم ہو جاتی ہے۔ تاہم الیکٹرک نوز میں پھونک مارنے کے بجائے مریض سے سانس لینے کا کہا جائے گا۔

الیکٹرک نوز میں نصب سینسرز کسی بھی فرد کی سانس سے اس میں تپ دق کے مرض کی نشاندہی کر لیں گے، جس کی بدولت فوری اور درست تشخیص ممکن ہو سکے گی۔ ای نوز انٹرنیشنل سینٹر فار جینیٹک انجینئرنگ اینڈ بائیو ٹیکنالوجی نیو دہلی اور نکسٹ ڈائمنشنز ٹیکنالوجیز کیلی فورنیا کی کاوشوں سے تیار کیا جا رہا ہے۔اس منصوبے کے سربراہ رانجن نندا کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ اکتوبر دو ہزار تیرہ تک وہ کلینکل ٹیسٹنگ کے لیے ایک پروٹو ٹائپ تیار کر لیں گے۔

ایک اندازے کے مطابق ٹی بی سے ہر سال پوری دنیا میں لگ بھگ سترہ لاکھ افراد ہلا ک ہو جاتے ہیں۔ محققین کے جائزوں کے مطابق الیکٹرک نوز کی تیاری سے ترقی پذیر ممالک میں اس مرض کی جلد اور فوری تشخیص سے ہر سال چار لاکھ افراد کی زندگیاں بچائی جا سکیں گی۔

اس وقت ٹی بی کی تشخیص کے لیے تھوک یا بلغم کو استعمال کیا جاتا ہے۔ اس طریقے میں اس مرض کی فوری تشخیص ممکن نہیں اور یہ طریقہ علاج طویل ہونےکے ساتھ کافی مہنگا بھی ہے۔ اس منصوبے کے لیے امریکی فلاحی تنظیم بل اینڈ ملنڈا گیٹس فاؤنڈیشن اور ایک غیر سرکاری تنطیم گرینڈ چیلنجز کینڈا نے پچانوے ہزار ڈالرز فراہم کیے ہیں۔ یہ دونوں تنظیمیں ترقی پذیر ممالک میں صحت کے شعبے میں بہتری لانے کے لیے کوشاں ہیں۔

ایک ای نوز کی قیمت بیس سے تیس ڈالر کے درمیان ہو گی اور اپنی ساخت اور بیٹری آپریشن کی بدولت یہ سہولت غریب ممالک کے ان دیہی علاقوں میں بھی دستیاب ہو گی، جہاں بجلی میسرنہیں ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق بھارت میں ٹی بی سے متاثرہ افراد کی شرح سب سے زیادہ ہے۔ یہاں تقریباً ایک ہزار افراد روزانہ اس بیماری کے باعث ہلا ک ہو جاتے ہیں۔

رپورٹ: شاہد افراز خان

ادارت : عدنان اسحاق

DW.COM