1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

ٹیکنالوجی کی یلغار: ہیرا منڈی کی رونقیں ماند پڑگئیں

پاکستان کے متحرک شہر لاہور کے قلب میں ملک کا سب سے پرانا ریڈ لائیٹ ایریا صدیوں سے روایتی رقص و سرود، موسیقاروں اور طوائفوں کا مرکز رہا ہے۔ تاہم اب ٹیکنالوجی کی یلغار سے یہاں کی رونقیں ماند پڑ گئی ہیں۔

Pakistan Tänzern im Rotlichtsviertel in Lahore

مغلیہ دور میں ہیرا منڈی اشرافیہ کے لیے روایتی مجرے ، اور رقص کی محفلیں سجانے کا مرکز ہوا کرتا تھا

ای کامرس کے انقلاب اور ٹیکنالوجی کے سیلاب میں مغلیہ تہذیب کے رکھ رکھاؤ والی لاہور کی ہیرا منڈی کے رنگ بھی پھیکے پڑنے لگے ہیں۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اس تاریخی ریڈ لائٹ ایریا کی ثقافتی اور معاشی بقا اب خطرے میں ہے۔ وہ بالکونیاں جہاں کبھی خوبصورت خواتین گاہکوں کے انتظار میں کھڑی رہا کرتی تھیں، اب ویران نظر آتی ہیں۔ خالی کمروں کے بند دروازوں پر زنگ لگ چکا ہے۔ موسیقی کے آلات بیچنے کی چند دکانیں البتہ اب بھی باقی ہیں۔ مرد حضرات ہیرا منڈی کی گلیوں میں دلچسپی تلاش کرنے کے بجائے اب ملاقات کا وقت اس حوالے سے مخصوص ویب سائٹس کے ذریعے آن لائن طے کر لیتے ہیں یا پھر سوشل میڈیا پر براہ راست خواتین سے رابطہ کر لیتے ہیں۔ ایسے میں جب ہیرا منڈی میں کاروبار مندا چل رہا ہے، ریما کنول جیسی طوائفوں نے اس علاقے کو چھوڑ دیا ہے۔ ریڈ لائٹ ایریا صدیوں پرانی بادشاہی مسجد کے نواح میں واقع ہے۔ پندرہویں اور سولہویں صدی عیسوی میں مغلیہ دور میں ہیرا منڈی اشرافیہ کے لیے روایتی مجرے ، اور رقص کی محفلیں سجانے کا مرکز ہوا کرتا تھا۔ امراء اپنے بیٹوں کو شرفاء کے ادب آداب سکھانے کے لیے طوائفوں کے پاس بھیجا کرتے تھے۔

Pakistan Rotlichtsviertel in Lahore

وہ بالکونیاں جہاں کبھی خوبصورت خواتین گاہکوں کے انتظار میں کھڑی رہا کرتی تھیں، اب ویران نظر آتی ہیں

تاہم ایسٹ انڈیا کمپنی کی بر صغیر آمد کے بعد سے لوگوں میں روایتی مجرا کرنے والی رقاصہ اور طوائف کے درمیان تمیز تقریباً ختم ہو کر رہ گئی۔ جنس اور رقص آپس میں خلط ملط ہو گئے اورہیرا منڈی پر غلاظت کی چھاپ لگ گئی لیکن ریما آج بھی یہاں کے شاندار زمانے کو یاد کرتی ہیں۔ ریما کی والدہ اور ان کی نانی بھی ہیرامنڈی کی ان طوائفوں میں شامل رہی ہیں جو یہاں آنے والے مردوں کو رقص اور گائیکی سے محظوظ کیا کرتی تھیں۔ ریما نے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا ،’’ لوگ ہماری عزت کیا کرتے تھے اور ہمیں فنکار کہا جاتا تھا لیکن گزشتہ ایک عشرے میں سب کچھ بدل گیا ہے اب کوئی ہماری عزت نہیں کرتا۔‘‘ ریما نے ہیرا منڈی کی ثقافت کو نقصان پہنچانے کا ذمہ دار ان لڑکیوں کو قرار دیا ہے جو اس پیشے میں کسی خاندانی پس منظر اور تربیت کے بغیرداخل ہوتی ہیں اورانہیں یہ علم نہیں ہوتا کہ گاہکوں کے ساتھ کس طرح کا برتاؤ کیا جانا چاہیے۔

Pakistan Prostituierte im Rotlichtsviertel in Lahore

ریما نے ہیرا منڈی کی ثقافت کو نقصان پہنچانے کا ذمہ دار ان لڑکیوں کو قرار دیا ہے جو اس پیشے میں کسی خاندانی پس منظر اور تربیت کے بغیرداخل ہوتی ہیں

ریما نے مزید کہا کہ ان لڑکیوں کو گاہک تلاش کرنے کے لیے اب صرف ایک موبائل فون درکار ہے جس سے وہ فیس بک اور دیگر ویب سائٹس پر اشتہار دے سکتی ہیں۔ اسی طرح رقص کے لیے اب موسیقی کے سازوں اور موسیقاروں کی ضرورت نہیں رہی۔ یہ کام یو ایس بی اسٹک کے ذریعے میوزک چلا کر بآسانی انجام دیا جا سکتا ہے۔ اسی پیشے سے وابستہ پچاس سالہ خاتون مہک کا کہنا ہے کہ کاروبار کے آن لائن ہونے کے بعد اس میں بہت بہتری آئی ہے۔

DW.COM