1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ٹیکنالوجی کی دوڑ میں انسانوں کو پیچھے نہ چھوڑا جائے، میرکل

جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے گزشتہ روز ہینوور میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے سب سے بڑے عالمی میلے کا افتتاح کر دیا۔ اس میلے میں دنیا کے 70 ممالک کی کمپنیاں شریک ہیں۔ عوام کے لیے نمائش کے دروازے آج کھولے گئے ہیں۔

جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے اتوار 19 مارچ کو شمالی جرمن شہر ہینوور میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے سب سے بڑے عالمی میلے CeBit کا افتتاح کرتے ہوئے ٹیکنالوجی ماہرین پر زور دیا کہ وہ اپنے ساتھی انسانوں کو پیچھے  نہ چھوڑیں بلکہ ٹیکنالوجی کی اس دوڑ میں انہیں اپنے ساتھ لے کر چلیں۔ 

افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے میرکل نے ٹیکنالوجی کمپنیوں سے پرزور اپیل کی کہ ڈیجیٹل تبدیلیوں کی وجہ سے بے یقینی کے شکار انسانوں کو نظر انداز نہ کیا جائے۔ میرکل کا کہنا تھا کہ ان انسانوں کو نئے انقلابی ڈیجیٹل دور میں ساتھ لے کر چلنے کا کام صرف سیاسی شعبے کے بس کی بات نہیں ہے۔

CeBit میں اس سال کے پارٹنر ملک جاپان کے وزیراعظم شینزو آبے نے بھی کھلی منڈیوں کی ضرورت پر زور دیا۔ مشترکہ مفادات کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے آبے کا کہنا تھا، ’’ہم کوئی ایسی صورتحال پیدا ہونے نہیں دے سکتے، جس میں محض خاص افراد ہی دولت جمع کرتے رہیں۔‘‘

Deutschland Merkel und Abe bei CeBIT-Eröffnung (Reuters/M. Mac Matzen)

رواں برس CeBit کا پارٹنر ملک جاپان ہے، جاپانی وزیراعظم شینزو آبے بھی افتتاحی تقریب میں شریک ہوئے

میرکل نے دنیا کے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے سب سے بڑے میلے کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے یہ بات تسلیم کی کہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کی دوڑ میں یورپ کسی حد تک پیچھے رہ گیا ہے۔ میرکل کے مطابق، ’’مگر دنیا بھر میں اس کی رفتار میں اضافہ محسوس کیا جا سکتا ہے اور ہم جاپان کی شکل میں ایک ایسا دوست رکھتے ہیں، جو اس تیز رفتار ترقی میں آگے ہے۔‘‘

شیزو آبے کا اس موقع پر کہنا تھا کہ ان کا ملک الیکٹرانکس اور روبوٹکس کے میدان میں قائدانہ مقام کا حامل ہے اور وہ ٹیکنالوجی، مثال کے طور پر مصنوعی ذہانت وغیرہ سے خوفزدہ نہیں ہے۔ آبے کے مطابق، ’’جاپان میں ایسا کوئی خوف موجود نہیں ہے کہ یہ مشینیں انسانوں کی جگہ لے لیں گی۔‘‘

آج پیر کے روز میرکل اس میلے کے اس سال کے مہمان ملک جاپان کے وزیر اعظم شینزو آبے کے ہمراہ میلے کے مختلف اسٹالز پر جائیں گی۔ پانچ روز تک جاری رہنے والے اس میلے میں اس سال ستّر ملکوں سے آئی ہوئی تین ہزار سے زائد کمپنیاں نت نئے رجحانات کی نمائش کر رہی ہیں۔ توقع کی جا رہی ہے کہ تقریباً دو لاکھ شائقین اس میلے کو دیکھیں گے۔