1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

ٹیکنالوجی بچوں کو ’ذہین‘ نہیں بناتی، رپورٹ

محققین نے اپنی ایک تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ کمپیوٹرز بچوں کی ذہنی صحت یا علمی قابلیت میں اضافے کا باعث نہیں بنتے بلکہ یہ بچوں کی کارکردگی کو متاثر کرتے ہیں۔

منگل کے روز OECD کی اس تازہ رپورٹ میں دنیا بھر کلاس روز میں نئی ٹیکنالوجی کے اثرات کا مطالعہ کیا گیا ہے۔

اقتصادی تعاون اور ترقی کی تنظیم کے مطابق ایسے ممالک جہاں اسکولوں کے کمرہء جماعت میں کمپیوٹر استعمال کیے جاتے ہیں، وہاں تین چوتھائی بچوں میں ذہانت یا امتحانی کارکردگی کے اعتبار سے کوئی مثبت فرق دکھائی نہیں دیا۔ اس کے برعکس ایشیا کے ایسے اسکول جہاں عام افراد بڑی تعداد میں اسمارٹ فونز اور کمپوٹرز کا استعمال کرتے ہیں، وہاں کلاس رومز میں بچوں میں ان کا استعمال انتہائی کم دکھائی دیا۔

Kinderheim in Tunesien

ٹیکنالوجی سے بچوں کی کارکردگی میں کسی اضافے کا کوئی اشارہ نہیں ملا

جنوبی کوریا میں بچے اوسطاﹰ نو منٹ یومیہ جب کہ ہانگ کانگ میں گیارہ منٹ یومیہ کمپیوٹرز کا استعمال کرتے ہیں۔ آسٹریلیا میں یہ دورانیہ 58 منٹ، یونان میں 42 منٹ اور سویڈن میں 39 منٹ ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایسے اسکول جہاں کمرہء جماعت میں کمپیوٹرز کا استعمال کیا جاتا ہے، وہاں طلبہ کی کارکردگی پر اثرات ملے جلے ہیں۔

’’ایسے طلبہ جو اسکولوں میں تواتر کے ساتھ کمپیوٹرز کا استعمال کرتے ہیں وہ کئی معاملات میں بڑی غلطیاں کرتے نظر آتے ہیں۔‘‘

اس رپورٹ کو مرتب کرتے ہوئے کمپیوٹرز کا استعمال کرنے والے بچوں کے امتحانی نتائج کا تقابل بین الاقوامی ٹیسٹ نتائج کے ساتھ کیا گیا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تعلیمی نظام میں ٹیکنالوجی پر بہت زیادہ انحصار کرنے والے اسکولوں میں بچوں کی کارکردگی میں بہتری کا کوئی خاص اشارہ دکھائی نہیں دیا ہے۔ اس مطالعے میں بچوں کی پڑھنے کی قابلیت کے ساتھ ساتھ سائنس اور ریاضی کے مضامین کے امتحانات لیے گئے۔

اس تنظیم نے دنیا بھر کے اسکولوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اساتذہ کے ساتھ مل کر ٹیکنالوجی کو زیادہ موثر استعمال کریں اور ایسے بہتر سافٹ ویئر تخلیق کیے جائے، جو بچوں میں تجرباتی رجحانات کے ساتھ ساتھ سیکھنے کی صلاحیتوں میں اضافے کا باعث بنیں۔