1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

ٹیکس فراڈ، لیونل میسی کو اکیس ماہ کی سزائے قید

اسپین کی ایک عدالت نے مایہ ناز فٹ بال اسٹار لیونل میسی اور ان کے والد کو اکیس اکیس ماہ کی سزائے قید سنا دی ہے۔ عدالت میں ٹیکس فراڈ کے الزامات ثابت ہو جانے پر انہیں 3.7 ملین یورو جرمانہ بھی ادا کرنا پڑے گا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے بتایا ہے کہ ارجنٹائن کی قومی فٹ بال ٹیم کے سابق کپتان اور بارسلونا کلب کی ںمائندگی کرنے والے دنیائے فٹ بال کے مشہور و مقبول فٹ بالر میسی کو اکیس ماہ کی سزائے قید سنائی گئی ہے لیکن امکان ہے کہ انہیں جیل نہیں بھیجا جائے گا بلکہ ان کی یہ سزا معطل کر دی جائے گی۔

اسپین میں عدم تشدد پر مبنی جرائم کے کیسوں میں ایسے مجرمان کی قید کی سزا اکثر معطل کر دی جاتی ہے، جو پہلی مرتبہ کسی جرم کے مرتکب ہوئے ہوں۔

ہسپانوی قوانین کے مطابق اس طرح کے جرائم میں دو سال سے کم مدت کی سزائے قید پانے والوں کی سزا معطل کر دی جاتی ہے، یعنی وہ صرف نگرانی میں ہی رکھے جاتے ہیں۔

اس ٹیکس فراڈ کیس میں میسی کے والد کو بھی مجرم قرار دیا گیا ہے۔ ان پر الزام تھا کہ وہ سن دو ہزار سات تا دو ہزار نو اپنے بیٹے میسی کی ’امیج رائٹس‘ سے حاصل شدہ رقوم پر انکم ٹیکس میں 4.16 ملین یورو کی ہیرا پھیری کے مرتکب ہوئے تھے۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے یوروگوائے اور بیلِیز جیسے ملکوں میں کمپنیاں بھی بنائی تھیں۔

Lionel Messi Barcelona Spanien mit Vater Jorge Horacio Messi

لیونل میسی دنیائے فٹ بال کے معروف ترین کھلاڑیوں میں شمار کیے جاتے ہیں

اس مقدمے کی کارروائی کے دوران میسی کا موقف تھا کہ انہیں مالیاتی امور میں ایسی کسی بے ضابطگی کا علم نہیں تھا کیونکہ وہ اپنی توجہ صرف فٹ بال پر مرکوز کیے ہوئے تھے۔