1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

ٹیٹو زدہ چہرے والی خواتین، سیاحوں کی توجہ کا مرکز

میانمار کے شمال مغرب میں واقع ایک دور دراز علاقے میں ایسی چند خواتین کو دیکھنے کے لیے سیاحوں کا تانتا بندھا رہتا ہے جن کے پورے چہرے پر ٹیٹو کی شکل میں نقش ونگار گُدے ہوئے ہیں۔

default

65 سالہ خاتون Ma Htwe اس کرب و اذیت کو یاد کرتی ہیں جس سے وہ پانچ دہائیوں قبل گزری تھیں۔ ان کے قبیلے میں رائج صدیوں پرانے رواج کے مطابق اس وقت ان کے چہرے پر پیچیدہ جال سے مشابہ ٹیٹو گدوایا گیا تھا۔

اپنے جھریوں زدہ چہرے پر آج بھی اس ٹیٹو کا نشان لیے وہ کہتی ہیں کہ جب ان کی آنکھ کے پپوٹوں پر ٹیٹو کے لیے گدائی کی جا رہی تھے تو تکلیف کی شدت سے انہیں لگ رہا تھا جیسے وہ غائب ہو گئے ہیں۔

Myanmar Burma Aung San Suu Kyi

سیاحوں کی ایک بڑے تعداد چہرے پر قدیم روایات کے تحت ٹیٹو گدوائے ہوئی خواتین کو دیکھنے آتی ہے

میانمار کی نسلی اقلیت، چھین قبیلے سے تعلق رکھنے والی Ma Htwe اپنے گاؤں کی وہ آخری لڑکی تھیں جن کے چہرے پر ٹیٹو گدوایا گیا تھا۔اس قبیلے کے رسم و رواج کے مطابق کسی بھی نوجوان لڑکی کے چہرے پر نقش و نگاری، اس کی زندگی کا اہم موڑ سمجھا جاتا ہے۔

دو نسل قبل چہروں پر نقش و نگاری گدوانے کا رواج ختم ہوجانے کے بعد Ma Htwe ان چند خواتین میں سے ایک ہیں جو اپنے چہروں پر اُس دور کی رسم کے نشان لیے آج بھی زندہ ہیں۔ ایسی خواتین کی موت کے ساتھ ہی صدیوں پرانی یہ قدیم روایت ان کے ساتھ ہی دفن ہو جائے گی۔

تاہم دم توڑتی اس قدیم روایت نے میانمار میں دریائے لیمرو کے کنارے آباد ان کے گاؤں کو سیاحوں کی توجہ کا مرکز ضرور بنا دیا ہے۔ ان خواتین کو دیکھنے کے لیے آنے والوں میں جرمن فوٹوگرافر اور مختلف چھین گروہوں پر گزشتہ دس برسوں سے تحقیق میں مصروف مصنف Jens Uwe Parkitny بھی شامل ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ خواتین اپنی طرز کی آخری خواتین ہیں۔

Tattoo Expo in der Schweiz - tätowierter Kopf

چہرے کے علاوہ جسم کے دیگر حصوں پر ٹیٹو گدوانے کا عمل آج بھی نوجوانوں میں مقبول ہے

چھین پادری Shwekey Hoipangکے مطابق اس رسم پر سرکاری طور پر 1960ء میں سوشلسٹ دور حکومت میں پابندی عائد کر دی گئی تھی۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ مسیحی مبلغین کی جانب سے عیسائیت کی ترویج کے باعث بہت بڑی تعداد میں اس قبیلے کے لوگ رُوحِیَت پر اعتقاد چھوڑ کر عیسائیت اختیار کررہے تھے۔اس کے باعث ٹیٹوز گدوانے کا عمل بھی مفقود ہوتا چلا گیا۔

خواتین آخر اس تکلیف دہ عمل سے کیوں گزرنا چاہتی تھیں۔ اس بارے میں خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے 60 سالہ Ma Sein بتاتی ہیں کہ ان کا خیال تھا کہ اس سے چہرہ زیادہ خوبصورت لگتا تھا۔

تاہم ان کو خبر نہیں تھی کہ آنے والے وقتوں میں چہرے پر نقش گدوانا نفع بخش بھی ثابت ہو گا۔ اب اپنی نسل کی اس پُرانی روایت کو لیے ہوئے بچ جانے والی چند خواتین کو دیکھنے کے لیے ان کے گاؤں میں صبح سے شام تک سیاحوں کی گہما گہمی رہتی ہے۔ ان سیاحوں کا دم توڑتی رسم کی آخری نشانی Ma Sein اور Ma Htwe اور ان جیسی دوسری خواتین خوشی اور کھلے دل سے استقبال کرتی ہیں ۔

رپورٹ: عنبرین فاطمہ

ادارت: افسر اعوان

DW.COM