1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

ٹیٹوز کی بھارت میں مقبولیت

گریش گریدھارا کے بازوؤں پر ہندو دیوتاؤں، دیویوں اور مقدس منتر ٹیٹو کی شکل میں گدے ہوئے ہیں۔ گوکہ یہ روحانی خاکے یا ٹیٹوز دیکھنے میں پیچیدہ ہیں مگر کسی ایسے شخص کے لیے حیران کن نہیں جس کی تربیت پادری کے طور پر کی گئی ہو

default

مونڈھے ہوئے سر، کانوں میں سونے کی بالیاں پہنے اور ماتھے پر لال تلک لگائے گریش، 36 سالہ ٹیٹو آرٹسٹ ہیں جو بھارت کے اینک ٹیٹو کنوینشن میں شریک تھے۔ اپنی نوعیت کے اعتبار سے بھارت کی یہ پہلی نمائش ممبئی میں گزشتہ ہفتے کے اختتام پر منعقد کی گئی تھی ۔اس نمائش کا مقصد بھارت کے نوجوانوں میں جسمانی آرٹ کے حوالےسے دلچسپی کو بیدار کرنا تھا۔

Wahl in Bulgarien

جسموں پر ٹیٹو گُدوانے کا رواج مرد و خواتین دونوں میں مقبول ہے

تاہم نمائش میں شامل گریش کہتے ہیں کہ جسم پر آرٹ کے نمونے گُدوانے کا رجحان بھارت میں نیا نہیں جسے فلمی اداکاروں یا کھلاڑیوں نے متعارف کروایا ہو۔ جسم پر ٹیٹو بنوانے کا عمل بھارتی قبیلوں کی ثقافت میں کئی صدیوں سے رائج ہے۔ آج بھی کوئی ہندو شادی، رسم مہندی کے بغیر نامکمل ہوتی ہے جس میں ٹیٹوز کی شکل میں بنائے گئے خاکوں کی مدد سے دلہن کے ہاتھوں اور پیروں کو خوبصورتی سے سجایا جاتا ہے۔

بھارتی شہر بنگلور میں بھرما ٹیٹوز اسٹوڈیو کے مالک گریش کہتے ہیں کہ ٹیٹوز کا ذکر مہابھارت کے زمانے میں بھی ملتا ہے، جب شری کرشنا نے اپنی رانی کے لیے جسم پر ٹیٹو بنوایا تھا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے گریش کہتے ہیں ’’ٹیٹوگُدوانے کا رجحان ایک طویل عرصے سے موجود تھا لیکن کسی وجہ سے یہ ایک دم غائب ہو گیا، لیکن اب یہ واپس آگیا ہے۔‘‘

BdT Pakistan Unabhängigkeitstag 2007

مہندی سے ہاتھوں پیروں کی آرائش بھی ٹیٹو بنوانے کی ایک قسم ہے

ان کا کہنا ہے کہ ''LA Ink جیسے ریئلٹی ٹی وی شوز، جس میں ٹیٹو آرٹسٹ اور لاس اینجلس میں ان کے گاہکوں کے بارے میں دکھایا جاتا ہے،بھارت میں ٹیٹوز کے بارے میں لوگوں کے ذہن کو تبدیل کرنے میں مدد گار ثابت ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اب سے پانچ سال قبل لوگ ٹیٹوز گُدوانے میں دلچسپی نہیں رکھتے تھے۔ اس زمانے میں یہ خیال تھا کہ ٹیٹوز منشیات کے عادی یا شرابیوں کے لیے مختص ہیں، تاہم اب لوگ اس حوالے سے زیادہ کشادہ ذہن ہو گئے ہیں۔

گریش کہتے ہیں کہ موت کے بعد یہ ٹیٹو انسان کی روح کے ساتھ ہی پرواز کر جاتے ہیں اور آواگون کے عقیدے کے مطابق انسان کے دوبارہ جنم لینے کے بعد اس کی ماضی کی زندگی سے ایک رابطہ بنتے ہیں۔

گریش کے مطابق انہوں نے اپنے لیے دس ہزار افراد کے جسموں پر مقدس ہندو لفظ ’اوم‘ کندہ کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے جس میں سے وہ اب تک ایک ہزار افراد کا ہدف پورا کر چکے ہیں۔

رپورٹ: عنبرین فاطمہ

ادارت: افسر اعوان

DW.COM