1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

ٹیوٹرز بھی پُر تعیش لائف اسٹائل اختیار کر سکتے ہیں

ہانگ کانگ میں تعلیمی شعبے میں مقابلے کی دوڑ بہت زیادہ سخت ہے۔ اچھی کار کردگی اورامتحان میں کامیابی حاصل کرنے والوں کو محض محنت ہی نہیں کرنا پڑتی بلکہ بہت مہنگی ٹیوشن فیس بھی ادا کرنا پڑتی ہے۔

default

ہانگ کانگ کا مہنگا ترین لگژری ہوٹل

تعلیم کے میدان میں آگے سے آگے نکلنے اور امتحانوں میں معیاری کارکردگی دکھانے کی خواہش رکھنے والے طالبعلموں کو اپنا گلا کٹوانا پڑتا ہے وہ بھی اپنے ٹیوٹرزکے ہاتھوں۔ وہاں امتحان میں کامیابی کا دار ومدار ٹیوٹرز پر ہے، جو طالبعلموں سے بہت زیادہ ٹیوشن فی لیتے ہیں۔ اس رجحان کے سبب ہانک کانگ میں نجی تعلیم دینے والے اساتذہ کے ایک نئے مسلک نے جنم لیا ہے۔ جن کی زندگی کا ڈھنگ اور رہن سہن کے طور طریقے شاہانہ ہیں۔ یعنی اب یہ ٹیوٹرز بھی اپنی زندگی کروڑ پتی مشہور و ممدوح شخصیات کی طرح پُر تعیش طریقے سے گزارتے ہیں۔

ان ٹیوٹرز کا دعویٰ ہے کہ وہ امتحان میں فیل ہونے والے طالبعلموں کو اے گریڈ مارکس حاصل کرنے کا اہل بنا سکتے ہیں۔ تاہم اس کی قیمت وہ بہت زیادہ لیتے ہیں۔ ڈیڑھ ملین ڈالر سالانہ تک ان کی فیس ہوتی ہے۔

Michael Schumachers Villa

میشائل شو ماخر کا پُر تعیش ولا

ٹیوشن کا رواج دراصل برطانیہ کے نو آبادیاتی نظام کا تحفہ ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ہانگ کانگ کے سیکنڈری اسکول کے طالبعلموں کی آدھی سے زیادہ تعداد اسکول کے اوقات کے بعد پرائیوٹ ٹیوٹرز سے استفادہ کرتی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ہانگ کانگ میں نجی طور پر تعلیم دینے والے ٹیوٹرز کی صنعت کا کاروباری حجم 51 ملین امریکی ڈالر کے برابر ہے۔ ہانگ کانگ پبلک امتحانات کا مقابلہ بہت زیادہ سخت ہوتا ہے۔ اس لیے والدین بچوں کی تعلیمی کامیابی کو یقینی بنانے کے لئے اور نجی طور پر تعلیمی مدد فراہم کرنے کے لیے خطیر رقم خرچ کرتے ہیں۔

ہانگ کانگ کا کنگز گلوری اسکول ملک کا سب سے بڑا ٹیوٹوریل اسکول ہے۔ اس کے انگریزی کے ٹیچرکیلی موک کا کہنا ہے کہ ہانگ کانگ کے اسکولوں میں بہت سخت امتحانات کا رواج ہےاور ٹیوشن کو ایک قسم کی تعلیمی سرمایہ کاری تصور کیا جاتا ہے‘۔

Unterricht

ہانگ کانگ میں تعلیمی میدان میں بہت سخت مقابلہ پایا جاتا ہے

تعلیمی شعبے میں کامیابی کو لازمی سمجھے جانے کے سبب ہانگ کانگ میں ٹیوشن کلچر کو اس حد تک فروغ ملا ہے کہ وہاں کے ٹیوٹرز دنیا کی امیر کبیر مشہور شخصیات کی طرح پُر تعیش زندگی گزارتے ہیں۔ ایسے ہی ایک ٹیوٹر رچرڈ انگ بھی ہیں جو اطالوی اسپورٹس کار Lamborghini میں گھومتے نظر آتے ہیں اور ان کی کلائی پر بہت مہنگی گھڑی کا ڈائل چمکتا دکھائی دیتا ہے۔ وہ ڈسٹرکٹ Yuen Long میں کروڑوں ڈالر کے ایک مینشن میں رہتے ہیں۔ ریچرڈ انگ کے مطابق ہانگ کانگ میں ہر سال کم از کم ایک لاکھ طالبعلم ٹیوٹوریل اسکولوں میں داخلہ لیتے ہیں۔

ہانگ کانگ میں ہر سال 20 ہزار طالبعلموں کے لیے ڈگری کا حصول ممکن ہوتا ہے تاہم اس کے خواہشمند ایک لاکھ طالبعلم اپنی قسمت آزماتے ہیں۔

رپورٹ: کشور مصطفٰی

ادارت: امج علی

DW.COM

ویب لنکس