ٹینک درآمد کرنے پر جرمن شہری کو سزا | معاشرہ | DW | 12.12.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

ٹینک درآمد کرنے پر جرمن شہری کو سزا

جرمنی کی ایک عدالت نے دو برطانوی جنگی ٹینک درآمد کرنے اور ان سے عسکری ساز و سامان نہ نکالنے کے جرم میں ایک شہری کو آٹھ ماہ کی معطل سزائے قید سنا دی ہے۔ یہ ٹینک بعد ازاں ایک جنگ مخالف آرٹ پروجیکٹ میں شامل کیے گئے تھے۔

جرمنی کے مغرب میں واقع بینزہائم نامی شہر کی ایک عدالت نے سن 2013 میں دو برطانوی ٹینک درآمد کرنے والے ایک انچاس سالہ جرمن شہری کو آٹھ ماہ قید کی معطل سزا سنائی ہے۔ اس شخص پر الزام ہے کہ اس نے ان ٹینکوں میں نصب عسکری ساز و سامان نہ نکال کر جنگی آلات سے متعلق ملکی قوانین کی خلاف ورزی کی تھی۔

یورپی یونین کے رکن ممالک کا دفاعی یونین کے قیام کا فیصلہ

امریکی فیصلہ: ایک سو برس بعد فلسطینیوں پر ایک اور کاری وار

بینزہائم کی اس عدالت کے جج نے ٹینک درآمد کرنے والے شخص کو دو ہزار یورو جرمانے کی سزا بھی سنائی۔ اسے یہ رقم کسی خیراتی ادارے کو ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

اس شخص نے برطانیہ سے ایف وی 180 نامی ’کومبیٹ انجینیئر ٹریکٹر‘ ٹینک جرمنی میں درآمد کیے تھے۔ ان ٹینکوں کو ایسی بکتر بند گاڑیوں کے زمرے میں شمار کیا جاتا ہے، جو میدان جنگ میں پھنس جانے والے ٹینکوں یا دیگر جنگی گاڑیوں کو نکالنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ بکتر بند ہونے کے باوجود ان ٹینکوں پر کوئی توپ نصب نہیں ہوتی۔

اس تناظر میں اس جرمن شہری کے وکیل پیٹر گیلرٹ کا کہنا تھا، ’’میرا مؤکل اس بات سے لاعلم تھا کہ یہ ٹینک بھی ’جنگی ہتھیاروں‘ کے زمرے میں آتے ہیں کیوں کہ ان پر توپ سمیت کسی قسم کا کوئی ہتھیار نصب نہیں تھا۔‘‘

جرمنی درآمد کیے جانے کے بعد ان ٹینکوں کو سن 2013 ہی میں ایک اور جرمن شہری نے تیس ہزار یورو کے عوض خرید لیا تھا۔ بعد ازاں جرمن دارالحکومت برلن میں جنگ مخالف مہم کے لیے جاری ایک آرٹ پروجیکٹ میں شریک جرمن ڈیزائنر ہارالڈ گلوئکلر نے ان ٹینکوں پر قوس قزح جیسے رنگ پینٹ کر کے اور ان پر جنگ مخالف پیغامات لکھ کر برلن میں جاری ایک نمائش میں رکھ دیا تھا۔

اسی نمائش کے دوران انکشاف ہوا تھا کہ ان ٹینکوں کو ’غیر جنگی‘ نہیں بنایا گیا تھا اور ان ٹینکوں کے ڈھانچے اس وقت تک توپ خانے اور گولیوں کے خلاف مزاحمت رکھنے والی دھاتوں سے مزین تھے۔

دفتر استغاثہ کی جانب سے کہا گیا تھا کہ ٹینک درآمد کرنے والا شخص اس بات سے آگاہ تھا کہ اسے ان میں سے جنگی ساز و سامان ختم کرنا تھا تاہم اس نے ان ٹینکوں کی فروخت سے زیادہ سے زیادہ منافع حاصل کرنے کے لالچ میں جان بوجھ کر ایسا نہیں کیا تھا۔ اسی لیے بینزہائم کی عدالت کے جج گیرہارڈ شیفر نے اس درآمد کنندہ کو سزا سنائی۔

ان ٹینکوں کو خریدنے والے دوسرے جرمن شہری اور انہیں آرٹ پروجیکٹ میں استعمال کرنے والے جرمن ڈیزائنر پر تاہم کوئی الزام عائد نہیں کیا گیا تھا۔

ہیمبرگ میں نازی دور کے بہت بڑے زیر زمین سواستیکا کی دریافت

نازی مسلمانوں کو ساتھ ملانے میں کیسے کامیاب ہوئے تھے؟

DW.COM