1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

‘ٹینکر مافیا‘ کراچی کو چوس کر خشک کر گئی

پانی کا ایک ٹینکر مفت پانی تقسیم کرنے علاقے میں پہنچا، تو علاقے کے رہائشی دوڑ کر اس کی جانب لپکے۔ کراچی میں ٹینکر مافیا کی حکمرانی قائم ہے اور پیاسے رہائشیوں کے لیے مفت پانی اب غیر معمولی بات بن کر رہی گئی ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق کراچی میں پانی بیچنے والے گروہ نہایت منظم ہیں اور لوگوں کو پینے کا پانی بیچ کر پیسہ بنانے میں مصروف ہیں۔

صدیق آباد اور کراچی کے دیگر نواحی علاقوں میں بچھائی گئی پینے کے پانی کی زیرزمین لائنز میں پانی شاذونادر ہی آتا ہے۔

پانی کی قلت کراچی کے کئی ملین رہائشیوں کے لیے ہی مسائل کا شکار نہیں بلکہ رواں برس موسم گرما میں گرمی کی لہر اور لو کے باعث 12 سو افراد کی ہلاکت کی ایک وجہ پانی کی قلت بھی تھی۔

Überflutung in Pakistan Flash-Galerie

شہر کے نواحی علاقوں میں پانی کی شدید قلت ہے

حالیہ کچھ دہائیوں میں کراچی بے قابو اور بغیر کسی منصوبہ بندی کے بڑھتا چلا گیا ہے۔ پچھلے ساٹھ برسوں میں اس شہر کی آبادی پچاس لاکھ سے دو کروڑ تک پہنچ چکی ہے اور شہر کا مجموعی رقبہ مرکزی پیرس سے 33 گنا بڑا ہے۔

کراچی شہر حب ندی اور دریائے سندھ سے قریب دو اعشاریہ دو ارب لیٹر پانی یومیہ بنیادوں پر کھینچا ہے، تاہم حالیہ کچھ برسوں میں بارشوں کی کمی بھی پانی کی قلت کی صورت میں برآمد ہوئی ہے۔ شہر کی پانی کی ضروریات مسلسل بڑھ رہی ہیں اور حاصل شدہ پانی کا ایک بڑا حصہ شہر میں موجود کپڑے کی صنعت اپنے استعمال میں لے آتی ہے۔

اے ایف پی کے مطابق کراچی میں کئی خاندان صرف پانی کے حصول کے لیے اپنی ماہانہ تنخواہ کا قریب 15 فیصد حصہ خرچ کر دیتے ہیں، جب کہ یہ پانی کئی مرتبہ پینے کے لیے مناسب تک نہیں ہوتا۔

کئی خاندان اس خریدے گئے پانی کو کھانے پکانے اور کپڑے دھونے کے لیے استعمال کرتے ہیں، کیوں کہ پانی کا معیار انتہائی ناقص ہے۔

اے ایف پی کے مطابق ٹینکر مافیا شہر کے زیرزمین پانی کی لائنوں سے روزانہ کئی ملین گیلن پانی چرا لیتی ہیں اور ان گروہوں نے متعدد مقامات پر مسلح افراد کے ساتھ مل کر غیرقانونی ہائیڈرنٹس بنا رکھے ہیں۔ ان گروہوں کی طاقت اور اثرورسوخ اس قدر زیادہ ہے کہ کراچی واٹر اینڈ سیورج بورڈ کے اہلکار ان کے سامنے بے بس ہیں۔

اے ایف پی کے مطابق حالیہ کچھ عرصے میں حکومتی فورسز نے جرائم پیشہ افراد کے خاتمے کے لیے جاری کریک ڈاؤن کے دوران پانی کے ایسے دو سو غیرقانوی کنیکشن ختم کرائے ہیں جب کہ ٹینکروں کو کراچی واٹر اینڈ سیورج بورڈ کے ہائیڈرنٹس سے ایک ہزار گیلن پانی کے بدلے ایک یا دو ڈالر ادا کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔

تاہم یہی پانی بعد میں چند ہی کلومیٹر دور شہر کے نواحی علاقوں میں ادا کی گئی قیمت سے دس گنا زیادہ پر فروخت کیا جاتا ہے۔