1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

ٹینس کے سیزن کا اختتام: فیڈرر اور داوی دَینکو دونوں خوش

ٹینس کا اِس سال کا سیزن کل اتوار کو لندن میں اختتام کو پہنچ گیا، جہاں گذرے دنوں کے دوران کھیلا گیا، اے ٹی پی کا ورلڈ ٹور فائنلز ٹورنامنٹ۔ اِس ٹورنامنٹ کے غیر متوقع فاتح رہے، اٹھائیس سالہ روسی کھلاڑی نکولائی داوی دَینکو۔

default

سوئٹزرلینڈ کے راجر فیڈرر بدستور پہلے نمبر پر

داوی دَینکو نے اتوار اُنتیس نومبر کو کھیلے جانے والے فائنل میں ارجنٹائن کے یو ایس اوپن چیمپئن خوآن مارٹن دَیل پوٹرو کو چھ تین اور چھ چار سے شکست دے دی۔

اِس کامیابی کے نتیجے میں داوی دَینکو عالمی درجہ بندی میں امریکی کھلاڑی اَینڈی رَوڈِک کو پیچھے دھکیل کر اب چھٹے نمبر پر آ گئے ہیں۔ داوی دَینکو اپنی ایک اعشاریہ پانچ ملین ڈالر کی انعامی رقم کا ایک حصہ آئندہ ہفتے مالدیپ میں اپنی تعطیلات پر خرچ کرنا چاہتے ہیں جبکہ باقی کی رقم سے وہ روسی دارالحکومت ماسکو میں اپنے ایک ذاتی اپارٹمنٹ کا خواب پورا کرنا چاہتے ہیں۔

اُدھر سوئٹزرلینڈ کے نامور کھلاڑی راجر فیڈرر بھی اگرچہ سیمی فائنل ہی میں داوی دَینکو سے ہار گئے تھے لیکن وہ اپنی کارکردگی سے پھر بھی مطمئن ہیں کیونکہ یہ مسلسل پانچواں سال ہے کہ فیڈرر سیزن کو عالمی درجہ بندی میں پہلی پوزیشن کے ساتھ اختتام کو پہنچا رہے ہیں۔

Olympia 2016

یہ سال رافائیل نادال کے لئے اچھا نہیں رہا

فیڈرر کے برعکس اسپین کے رافائیل نادال کے لئے یہ سال زیادہ اچھا ثابت نہ ہوا، بہت مرتبہ زخمی ہو جانے کی وجہ سے اُنہیں کئی مقابلوں میں اپنی شرکت منسوخ کرنا پڑی۔

چھ گرینڈ سلیم ٹینس ٹورنامنٹ جیتنے والے اور عالمی درجہ بندی میں دوسرے نمبر کے ہسپانوی کھلاڑی رافائیل نادال لندن منعقدہ ٹورنامنٹ سے جمعے کو ہی خارج ہو گئے تھے، جب اِس ٹورنامنٹ میں اپنے اعزاز کا دفاع کرنے والے سیرب کھلاڑی نوواک ژوکووِچ نے اُنہیں سات چھ اور چھ تین سے ہرا دیا اور یوں وہ اپنا مسلسل تیسرا میچ ہار گئے۔ تینوں میچوں میں وہ کوئی بھی سیٹ جیتنے میں ناکام رہے۔ لگتا ہے کہ پیشہ ورانہ ٹینس میں اپنا چار سوواں میچ جیتنے کے لئے نادال کو ابھی کچھ اور انتظار کرنا ہو گا۔

ارجنٹائن کے اکیس سالہ کھلاڑی دیل پوٹرو کے لئے یہ سال عالمی درجہ بندی میں پانچویں پوزیشن کے ساتھ اختتام کو پہنچ رہا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ یہ سال اُن کے لئے اچھا رہا کیونکہ وہ فرینچ اوپن اور ومبلڈن فاتح فیڈرر کو شکست دے کر یو ایس اوپن جیتنے میں کامیاب رہے۔

رپورٹ: امجد علی

ادارت: شادی خان سیف