1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

ٹینس: نادال جیت کے بارے میں متشکک

عالمی نمبر دو ٹینس اسٹار رافائل نادال نے کہا ہے کہ فی الحال ٹورنامنٹس جیتنا ان کے لیے اتنا اہم نہیں ہے جتنا کہ مکمل فٹ ہو کر اچھا کھیل پیش کرنا ہے۔

default

23 سالہ ہسپانوی کھلاڑی رافائل نادال اس ہفتے کینیڈا میں کھیلے جانے والے راجرز کپ میں اپنے اعزار کا دفاع کریں گے۔ تاہم جب صحافیوں نے ان سے دریافت کیا کہ وہ یہ ٹورنامنٹ جیتنے کے لیے کتنے پر امید ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ ٹورنامنٹ جیتنا ان کے لیے تقریباً ناممکن ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ اس ٹورنامنٹ کے ذریعے وہ ’ردھم‘ میں واپس آ جائیں۔

Australian Open Rafael Nadal und Roger Federer Einzel Männer

نادال کی عدم موجودگی میں فیڈرر نے پہلی پوزیشن دوبارہ حاصل کرلی

واضح رہے کہ رواں برس فرنچ اوپن کے دوران نادال گھٹنے کی تکلیف کا شکار ہو گئے تھے۔ وہ چار برس کے بعد فرنچ اوپن ہار گئے اور اس کے بعد ومبلڈن میں بھی شریک نہ ہو سکے۔ رواں برس کا ومبلڈن سوئیڈش کھلاڑی راجر فیڈرر نے جیت کر 15 گرینڈ سلیم جیتنے کا عالمی ریکارڈ بنا لیا۔ اس سے پہلے یہ اعزاز امریکی کھلاڑی پیٹ سمپراس کے پاس تھا جنہوں نے اپنے کرئیر میں چودہ گرینڈ سلیم جیتے تھے۔

نادال کے مطابق ان کے گھٹنے کی چوٹ ’خطرناک‘ نہیں ہے تاہم انہیں تکلیف ضرور ہے۔

Andy Murray

راجرز کپ جیت کر اینڈی مرے دوسری پوزیشن حاصل کر سکتے ہیں

واضح رہے کہ راجرز کپ ہارڈ کورٹ پر کھیلا جانے والا ایک اہم ٹورنامنٹ ہے جس کے بعد نیویارک کے فلشنگ میڈوس میں سال کا آخری گرینڈ سلیم یو ایس اوپن کھیلا جائے گا۔ جب نادال سے پوچھا گیا کہ وہ یو ایس اوپن جیتنے کے لیے کتنے پر امید ہیں تو اس سوال کا جواب بھی انہوں نے یہی دیا کہ یو ایس اوپن جیتنے کے بارے میں سوچنا ابھی قبل از وقت ہے۔ ان کی تمام تر توجّہ اس وقت سو فیصد فٹ ہونے پر ہے نہ کہ ٹورنامنٹس جیتنے پر۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ انہیں امید ہے کہ وہ یو ایس اوپن تک مکمل فٹ ہو جائیں گے۔

اگر رافائل نادال راجرز کپ کے پہلے یا دوسرے راؤنڈ میں ہار جاتے ہیں تو سیمی فائنل تک پہنچنے کی صورت میں برطانوی کھلاڑی اینڈی مرے عالمی نمبر دو کھلاڑی بن جائیں گے اور نادال تیسری پوزیشن پر چلے جائیں گے۔ اگر مرے یہ ٹورنامنٹ جیت لیتے ہیں تو وہ بہر صورت عالمی رینکنگ میں تیسری سے دوسری پوزیشن پر آ جائیں گے۔

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات