1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

ٹینس سٹار کم کلائسٹرز کی ممکنہ واپسی

ٹینس کی سابقہ عالمی نمبر ایک کھلاڑی کم کلائسٹرز شادی اور ماں بننے کے بعد ایک بار پھر ٹینس کورٹ میں اترنے کے بارے میں سوچ رہی ہیں۔ کیا کورٹ پر اُن کی واپسی شاندار ہو گی؟

default

کم کلائسٹرز

یورپی ملک بیلجئم کی دو مشہور ٹینس کھلاڑیوں نے کچھ عرصے تک ٹینس کے منظر پر اپنا رعب جمائے رکھا۔ اُن دو خواتین کھلاڑیوں کے نام جسٹین ہینن اور کم کلائٹرز ہیں۔ پہلے کم کلائسٹرز شادی کا اعلان کر کے کھیل کی دنیا کو چھوڑ گئیں اور پھر جسٹن ہینن نے ایک دو میچوں میں مسلسل شکست کے بعد دل برداشتہ ہوتے ہوئے ٹینس کورٹ کو خیرباد کہہ دیا۔

Die belgische Tennisspielerin Justine Henin gewinnt die German Open

بیلجیئم کی کھلاڑی جسٹن ہین

ان دونوں خواتین کو ٹینس کی عالمی نمبر ایک کھلاڑی بننے کا اعزاز حاصل ہوا تھا۔ ہینن تو خاصے عرصے تک عالمی نبمر ایک رہیں تھیں جبکہ کلائسٹرز کا دور تھوڑے ہی عرصے پر محیط تھا۔

اب ایسے امکانات پیدا ہوئے ہیں کہ کم کلائسٹرز اگلے دو چار ہفتوں میں ٹینس کورٹ پر جلوہ گر ہو سکتی ہیں۔ پچیس سالہ کلائسٹرز نے کھیل کو مئی سن دو ہزار سات میں خدا حافظ کہا تھا۔ تقریباً دو برس بعد وہ کچھ میچ کھیلنے ویمبلڈن کے نئے کورٹ جا رہی ہیں۔

euromaxx quiz 01.10.2004

مارٹینا ہینگس

کھیل کی دنیا میں واپسی کے حوالے سے اُن کی مشاورت ایک اور سابقہ عالمی نمبر ایک امریکی کھلاڑی Davenport سے جاری ہے۔ اِس مشاورت کا مرکزی پہلُو کھیل کی دنیا میں بچوں کے ساتھ واپسی ممکن ہے یا نہیں۔ کلائسٹرز گزشتہ سال فروری میں ایک بچے کی ماں بن چکی ہیں۔

Deutschland Medienpreis für Steffi Graf und Andre Agassi

جرمن کھلاڑی سٹیفی گراف اپنے امریکی شوہر آندرے آگاسی کے ہمراہ

ویمبلڈن کے نئے مرکزی کورٹ کی آزمائش کے لئے کچھ میچوں کا اہتمام کیا گیا ہے۔ یہ میچ سترہ مئی کو کھیلے جائیں گے۔ اِس کے لئے جرمنی کی مشہور و معروف اور مایہ تاز ٹینس کھلاڑی سٹیفی گراف کو بھی دعوت دی گئی ہے۔ گراف کے شوہر آندرے آگاسی بھی اِن میچوں میں شرکت کر یں گے۔ اِن کے علاوہ ٹم ہینمن بھی شرکت کر رہے ہیں۔

کم کلائسٹرز نے اپنے کھیل کے دوران سن دو ہزار پانچ کا یُو ایس اوپن ، گرینڈ سلیم ٹورنامنٹ کو جیتا تھا۔ اِس کے علاوہ وہ فرنچ اوپن اور آسٹریلئن اوپن کے فائنل تک بھی پہنچنے میں کامیاب ہوئیں تھیں۔ وہ دو مرتبہ ویمبلڈن کے سیمی فائنل تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب رہیں تھیں۔

اِن سے پہلے بھی کئی خواتین کھلاڑی، ریٹائر منٹ کے بعد کھیل کی دنیا میں لوٹی ضرور ہیں لیکن وہ کسی طور اپنے آپ کو ٹینس کی موجودہ رفتار کے ساتھ اپنا ربط بحال کرنے میں ناکام رہی تھیں۔ اِن میں سوئٹزر لینڈ کی مشہور مارٹنا ہنگس کا نام سب سے پہلے لیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح ایک امریکی کھلاڑی مونیکا سیلیزبھی زخمی ہونے کے بعد کچھ دیر کے لئے ٹینس سے کنارہ کش ہوئیں تھیں مگر جب وہ لوٹی تو اُن کا ردھم بھی کھیل کے ساتھ جڑ نہیں سکا تھا۔ ماہرین اب کم کلائسٹرز کی واپسی پر ایسی ہی سوچ سے دوچار ہیں۔