1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

ٹیم کواب نئے خون کی ضرورت ہے: وسیم اکرم

’سلطان آف سوینگ‘ اور شہرہ آفاق سابق کرکٹر وسیم اکرم نے سڈنی ٹیسٹ میں پاکستان کی نا قابل یقین شکست کو ’ناکامی کے خوف‘ کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے ٹیم میں نیا خون شامل کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

default

سلطان آف سوینگ وسیم اکرم فاسٹ بولر عمر گل کے ہمراہ

سابق کپتان اور ورلڈ کلاس آل راوٴنڈر اکرم نے لاہور میں اپنی رہائش گاہ پر ڈوئچے ویلے اُردو سروس کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں کہا کہ جب سینئر کھلاڑی محض تیس،پینتیس رنز بناکر ٹیم کے لئے صرف مسائل ہی پیدا کر رہے ہوں تو کیوں نہ ایسے جواں سال کھلاڑیوں کو موقع دیا جائے جو درکار عمل سے گزر کر اگلے دو عشروں تک ملک کے کام آسکیں۔

’’ایسے کاموں کے لئے کپتان، سلیکٹرز اورکرکٹ بورڈ کو مل بیٹھ کر منصوبہ بندی کرنے کی ضرورت ہوتی ہے، مگر مجھے تو کچھ بھی ہوتا ہوا دکھائی نہیں دے رہا۔‘‘

Wasim Akram

وسیم اکرم نے 1992ء کے ورلڈ کپ ٹورنامنٹ میں پاکستانی ٹیم کی جیت میں کلیدی کردار ادا کیا تھا

سڈنی میں جیتی بازی ہارے جانے پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے عہد ساز کرکٹر نے کہا کہ ٹیسٹ میچ ایک لمبی ریس کی طرح ہوتا ہے، اس میں ٹی ٹوئنٹی اور ون ڈے فارمیٹس کے بر عکس فیورٹ ہی آخر میں فتح سے ہمکنار ہوتا ہے۔’’آسٹریلیا جیسی طاقتور ٹیم کو پانچ دن کے میچ میں شکست دینے کے لئے سپیشل ٹیلنٹ، مہارت، مستقل مزاجی اور سب سے بڑھ کر ذہنی فٹنس درکار ہوتی ہے، جس کی پاکستان ٹیم میں زبردست کمی ہے۔‘‘ وسیم اکرم کے مطابق غیر ملکی ٹیموں کے پاکستان نہ آنے اورگزشتہ تین برس میں ٹیسٹ کرکٹ کی قلت سے بھی پاکستانی کھلاڑی اعتماد سے عاری نظر آرہے ہیں اور لگتا ہے کہ یہ ٹیم جیتنے کا آرٹ بھول چکی ہے۔

ٹیسٹ کرکٹ میں 414 اور ون ڈے میں 502 وکٹیں حاصل کرنے والے وسیم اکرم نے مزید کہا کہ سڈنی ٹیسٹ میں پاکستانی ٹیم ناکامی کے خوف میں مبتلا نظر آئی ۔’’چوتھے روز آسٹریلیا کی اختتامی دو وکٹیں پندرہ بیس رنز میں ہی اڑا دینی چاہیے تھیں مگر اپنی غلطیوں کی وجہ سے اسے گرین ٹاپ پچ پر 176رنز کا مشکل ہدف ملا ۔بعد ازاں بیٹسمینوں نے جس طرح شاٹس کھیلے، وہ حکمت عملی کے فقدان اور ہار کے ڈرکا رد عمل تھا۔‘‘

ایک سوال کے جواب میں وسیم اکرم نے مسکراتے ہوئے کہا کہ صرف پاکستانی ٹیم کوہی نہیں بلکہ پورے ملک کو ماہر نفسیات کی ضرروت ہے۔’’کرکٹ ٹیم کی غیر مستقل مزاجی ہمارے معاشرتی رویوں کی آئینہ دار ہے۔ سلیکشن اور کپتانی میں تسلسل کا فقدان ہے۔‘‘ وسیم اکرم نے کہا کہ یونس خان کو ایک دن2011 ء ورلڈ کپ تک کپتان مقرر کیا جاتا ہے اور اگلے ہی روز وہ ٹیم میں بھی نہیں ہوتے۔’’اسی وجہ سے ہم ایک دن عرش اور دوسرے دن فرش پر آجاتے ہیں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ انہیں نہیں معلوم کہ ’پی سی بی‘ اور یونس خان میں کون غلطی پر ہے مگر یونس خان کو درمیانی اور متوازن راستہ اختیار کرنے کی ضرروت ہے کیونکہ اب بھی اسکی بہت کرکٹ باقی ہے۔

Cricketspieler Mohammad Yousuf

سڈنی میں محمد یوسف کی منفی کپتانی اور دفاعی حکمت عملی کے باعث انہیں ہر طرف سے شدید تنقید کا سامنا ہے

کامران اکمل کی وکٹ کیپنگ پر تبصرہ کرتے ہوئے 1992ء عالمی کپ کے ہیرو وسیم اکرم نے کہا کہ وہ ایک انتہائی باصلاحیت اور ہونہار کرکٹر ہے۔’’کامران اکمل کی صلاحیتوں سے کسی کو انکار نہیں ہے۔گزشتہ برس اکمل کی وکٹ کیپنگ میں خاطر خواہ بہتری آئی مگر سڈنی ٹیسٹ میں اسکی توجہ میں کمی نظر آئی۔’’امید ہے کہ کامران اکمل اپنی وکٹ کیپنگ پر مزید توجہ دیں گے کیونکہ جب آپ مائک ہسی جیسے کھلاڑی کے تین کیچ چھوڑیں گے، تو آسٹریلیا جیسی ٹیم آپ کو کہاں چھوڑے گی۔‘‘

کپتان محمد یوسف کی دفاعی حکمت عملی کے بارے میں وسیم اکرم نے کہاکہ یوسف کو قیادت کے منصب پر فائز ہوئے ابھی محض پانچ ٹیسٹ میچز ہی گزرے ہیں۔’’کرکٹ میں کوئی بھی پیدائشی کپتان نہیں ہوتا۔ کپتانی ہمیشہ کرنے سے ہی آتی ہے۔ سڈنی میں یوسف جب غلطیاں کر رہا تھا تو اس وقت کوچ انتخاب عالم، عاقب جا وید اور وقار یونس کے ساتھ سینئر کھلاڑیوں کا فرض بنتا تھا کہ وہ اسے صحیح مشورہ دیتے کیونکہ دفاعی فیلڈنگ کی منصوبہ بندی تنہا محمد یوسف نے نہیں بلکہ سب نے ملکر کی ہوگی۔‘‘

Pakistan Land und Leute Imran Khan

عمران خان کی قیادت میں پاکستانی ٹیم نے سن 1992ء میں ورلڈ کپ جیتا

پاکستان کی ڈومیسٹک کرکٹ کے نظام کے حوالے سے عمران خان اور جا وید میاں داد کی متضاد رائے پر وسیم اکرم نے کہا کہ ریجنل کرکٹ کانظام بھی اپنا کر دیکھ لیا ہے، اسکا کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔’’علاقائی ٹیموں میں آفیشلز کھلاڑیوں کے پیسے کھا جاتے ہیں جبکہ ڈیپارٹمنٹ کرکٹرز کو گروم کرتے ہیں اور ملازمت ملنے کی وجہ سے کھلاڑی پر سکون رہتا ہے۔ تاہم ڈومیسٹک کرکٹ کا مناسب سسٹم مرتب کرنا مشکل کام ہے، اس کے لئے کم از کم ایک سال کا عرصہ درکار ہے اور اتنا وقت یہاں کسی کے پاس نہیں ہے۔‘‘ وسیم اکرم کے مطابق ’پی سی بی‘ کو چاہیے کہ اب جبکہ ملک میں انٹر نیشنل کرکٹ نہیں ہو رہی توڈومیسٹک ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی ڈے نائٹ میچز منفرد انداز میں منعقد کروائے تاکہ لوگ میچ دیکھنے سٹیڈیم آسکیں۔‘‘

Indian Premier League Südafrika

کولکتہ نائٹ رائڈرز کی ٹیم کے کھلاڑی

پاک،بھارت سیریزکی بحالی پر زور دیتے ہوئے وسیم اکرم نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان کرکٹ بہت ضروری ہے کیونکہ مالی فائدے کے ساتھ سرحد کے دونوں اطراف کرکٹ میں عوامی دلچسپی عروج پر پہنچ جاتی ہے۔’’کھلاڑی کھیل کر محظوظ رہتے ہیں اور کم عمر کرکٹ کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ اس لئے دونوں ملکوں کو چاہیے کہ پاک،بھارت سیریز دبئی، ابوظہبی یا بھارت میں کرائیں، کرکٹ جاری رہنی چاہیے۔‘‘

بھارتی پریمیئر لیگ ’آئی پی ایل‘ میں ’کولکتہ نائٹ رائڈرز‘ کی ٹیم کو بطوربوٴلنگ کوچ جوائن کرنے والے وسیم اکرم نے مزید کہا کہ انکی نائٹ رائڈرز کے مالک بالی وڈ سٹار کنگ خان یعنی شاہ رخ خان سے ملاقات ہوئی ہے۔ اکرم کے بقول اس ٹیم میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں۔’’میں کوشش کروں گا کہ کوچ ڈیو وٹمور، کپتان سورو گنگولی اور کرس گیل کے ساتھ ملکر اس ٹیم کی کارکردگی بہتر بنانے میں اپنا کردار ادا کر سکوں۔‘‘ وسیم اکرم کے مطابق نائٹ رائڈرز کی ٹیم کو کامیابی کے لئے اتحاد اور منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ ’آئی پی ایل‘ کے ابتدائی دو سیسنز میں بڑے ناموں والی نائٹ رائڈرز کی ٹیم بری طرح ناکام رہی تھی۔

رپورٹ: طارق سعید، لاہور

ادارت: گوہر نذیر گیلانی، بون

DW.COM

Audios and videos on the topic