1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ٹیموشینکو کی سزا پر مغربی ممالک کا سخت ردعمل

یوکرائن کی سابق خاتون وزیر اعظم ژولیا ٹیموشینکو کو سنائی جانے والی سات برس کی سزائے قید پر مغربی ممالک نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ امریکہ اور یورپی یونین کے بقول اس مقدمے کے سیاسی محرکات تھے۔

default

یورپی یونین کے خارجہ امور کی سربراہ کیتھرین ایشٹن نے اس عدالتی فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس سے یوکرائن اور یورپی یونین کے باہمی تعلقات پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے ژولیا ٹیمو شینکو کے خلاف مقدمے کے منصفانہ ہونے پر شبہ ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے کے بعد یوکرائن کے یورپی یونین میں شامل ہونے کی خواہش پر بھی فرق پڑ سکتا ہے۔

امریکی حکومت نے اس فیصلے کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ٹیموشینکو کو سیاسی دشمنی کا نشانہ بنایا گیا ہے جبکہ روسی وزیر اعظم ولادیمیر پوٹن نے عدالت کی طرف سے سنائی جانے والی سزا کی طویل مدت پر حیرانی کا اظہار کیا ہے۔ جرمنی، فرانس اور پولینڈ کی حکومتوں نے بھی اس عدالتی فیصلے پر اپنے سخت تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

ٹیموشینکو کی اس سزا پر انسانی حقوق کے سرکردہ کارکنان نے بھی احتجاج کیا ہے جبکہ سیاسی مبصرین کے مطابق موجودہ حکومت سیاسی دشمنی نکالتے ہوئے اپوزیشن کی نمایاں رہنما کو سیاست سے دور کرنا چاہتی ہے۔

Ukraine Timoschenko Schuldspruch Prozess Urteil Demonstration

ٹیمو شینکو کی حامی ایک خاتون

ٹیموشینکو کو سنائی جانے والی سزا پر شدید ردعمل دیکھتے ہوئے صدر وکٹور یانوکووچ نے کہا ہے کہ وہ اس مقدمے کے حوالے سے مغربی ممالک کی الجھن سمجھ سکتے ہیں اور عدالت کا یہ فیصلہ حتمی نہیں ہے۔

منگل کو جب کی ایف کی ایک عدالت نے پچاس سالہ ٹیموشینکو کو مجرم قرار دیتے ہوئے سات برس کی قید سنائی تو سابق وزیر اعظم نے کہا کہ وہ اپنی بے گناہی کو ثابت کرنے کے لیے یورپین عدالت برائے انصاف تک جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ سزا عدالت کی طرف سے نہیں دی گئی بلکہ یہ صدر وکٹور یونوکووچ نے لکھی ہے۔

ٹیمو شینکو نے مزید کہا، ’مجھے کوئی بھی سزا سنائی جائے، اس سے مجھے کوئی فرق نہیں پڑے گا بلکہ میں اپنی جدوجہد جاری رکھوں گی‘۔ انہوں نے صد وکٹور یانوکووچ کو مطلق العنان قرار دیتے ہوئے کہا کہ یوکرائن کی عوام کو ملک کے تحفظ کے لیے آگے بڑھنا پڑے گا۔

عدالت کے فیصلے کے مطابق 2009ء میں ژولیا ٹیموشینکو نے اپنے دور اقتدار کے دوران اپنے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے روس کے ساتھ گیس کے ایک معاہدے پر دستخط کیے، جس کی وجہ سے ملک کو 186 ملین ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا۔ عدالت نے ٹیموشینکو کو سات سال کی سزائے قید سنانے کے علاوہ سرکاری گیس کمپنی کو 200 ملین ڈالر کا جرمانہ ادا کرنے کے لیے بھی کہا۔

جب عدالتی کارروائی جاری تھی تو نہ صرف کمرہ عدالت کے اندر بلکہ باہر بھی ’نارنگی انقلاب‘ کی ہیروئن ٹیمو شینکو کے حامی ان کے حق میں نعرہ بازی کرتے رہے۔ اس موقع پر دارالحکومت میں سخت سکیورٹی کے انتظامات کیے گئے تھے۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: شادی خان سیف

DW.COM