’ٹیلی کوم ٹیکس‘: افغان طالبان کا بھتہ خوری کا نیا انداز | حالات حاضرہ | DW | 18.01.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’ٹیلی کوم ٹیکس‘: افغان طالبان کا بھتہ خوری کا نیا انداز

افغانستان میں ٹیلی مواصلات ان چند شعبوں میں سے ایک ہے، جس میں تیزی سے ترقی ہو رہی ہے لیکن طالبان اب اسے تباہ کرنے کے درپے ہیں۔ طالبان نے ان کمپنیوں سے ’ٹیلی کوم ٹیکس‘ کا مطالبہ کر دیا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق گزشتہ ماہ پاکستانی شہر کوئٹہ میں ہونے والے ایک خفیہ اجلاس میں افغان طالبان کی مرکزی قیادت نے مواصلات کے شعبے کی چار بڑی کمپنیوں کے نمائندوں سے بھاری رقم طلب کی اور جواب میں ان کے ملازمین کو نقصان نہ پہنچانے کی یقین دہانی کرائی۔ ان کمپنیوں میں ابوظہبی کی اتصالات اور جنوبی افریقی ’ایم ٹی این‘ کے علاوہ مقامی افغان ادارے روشن اور افغان وائرلیس کمیونیکیشن کمپنی شامل ہے۔ کابل حکام کی جانب سے اس نئی پیش رفت پر ابھی تک کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

ابھی حال ہی میں کابل حکومت نے اعلان کیا تھا کہ موبائل فون کمپنیوں پر دس فیصد اضافی ٹیکس عائد کرنے کی وجہ سے اسے چند روز کے اندر اندر تقریباً سوا ملین ڈالر کا فائدہ ہوا ہے۔

Handy-Nutzung in Afghanistan Flash-Galerie

طالبان کے خفیہ اجلاس میں موجود ٹیلی کوم کمپنی کے ایک اہلکار نے اے ایف کو بتایا:’’یہ لوگ ہم سے اُتنی ہی رقم کا مطالبہ کر رہے ہیں، جتنی ہم کابل حکومت کو ادا کر رہے ہیں۔ ہم نے طالبان پر واضح کیا کہ اس طرح تو ہمارا کاروبار تباہ و برباد ہو جائے گا تاہم انہوں نے جواب دیا کہ یہ وہ واحد طریقہ ہے، جس سے آپ اپنے ملازمین کو تحفظ فراہم کر سکتے ہیں اور اپنی تنصیبات کو بچا سکتے ہیں۔‘‘

کوئٹہ شورٰی اجلاس میں شریک طالبان کے ایک رہنما نے اس خبر کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ یہ لوگ ابھی ان کمپنیوں کے جواب کا انتظار کر رہے ہیں۔ اس رہنما کے مطابق، ’’ہم نے ان کاروباری اداروں کو سمجھا دیا ہے کہ یہ ہمارا حق ہے اور اگر وہ افغانستان میں اپنے اینٹینا اور نشریات کو بچانا چاہتے ہیں تو انہیں یہ رقم ادا کرنی پڑے گی۔‘‘

طالبان ماضی میں بھی ٹیلی کوم اداروں کو نقصان پہنچاتے رہے ہیں اور ان کے انجینیئرز اور دیگر عملے کو اغوا بھی کیا جاتا رہا ہے۔ کئی علاقوں میں تو آلات کو بھی تباہ کیا گیا، جس کی وجہ سے متاثرہ علاقوں کے شہریوں کو ایک طویل عرصے تک موبائل فون کی سہولت دستیاب نہیں تھی۔

اس سے قبل بھی طالبان کے مقامی کمانڈر اپنے اپنے علاقے میں ٹیلی کوم اداروں سے بھتہ وصول کرتے رہے ہیں تاہم ایسا پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ اس شدت پسند تنظیم کی مرکزی قیادت نے اس قسم کا کوئی مطالبہ کیا ہے۔ افغانستان کی تیس ملین کی آبادی میں تقریباً انیس ملین شہری موبائل فون استعمال کرتے ہیں۔ ٹیلی مواصلات کا شمار اس ملک کی تیزی سے ترقی کرنے والی صنعتوں میں ہوتا ہے۔ اس صنعت سے قریب دو لاکھ سے زائد افراد منسلک ہیں جبکہ اس کی سالانہ آمدنی ڈیڑھ سے دو سو ملین ڈالر کے برابر ہے۔