1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ٹیلی کوم سکینڈل، بھارتی پارلیمان کا اجلاس

بھارت میں منموہن سنگھ حکومت ٹیلی کوم ٹھیکوں میں بے ضابطگیوں اور بدعنوانی کے الزامات میں گھری ہوئی ہے اور ایسے میں بھارتی پارلیمان کے نئے پارلیمانی سیشن کا آغاز پیر کے روز سے ہو گیا ہے۔

default

اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے حکمران جماعت کانگریس پارٹی کے متعدد وزراء پر الزامات عائد کئے جا رہے ہیں کہ انہوں نے دنیا کی سب سے تیز رفتاری سے بڑھتی ہوئی موبائل منڈی کے ٹھیکوں میں بڑے پیمانے پر کرپش کی، جس کے باعث ملک کو تقریبا 40 بلین ڈالر کا بوجھ اٹھانا پڑسکتا ہے۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ ان ٹھیکوں میں بے قاعدگیوں کے باعث بھارت کو ٹیکسوں کی مد میں یہ اضافی بوجھ اٹھانا پڑے گا۔

Indien Premierminister Manmohan Singh

بھارتی وزیراعظم پر اس حوالے سے شدید دباؤ ہے

اسی احتجاج کے سلسلے میں گزشتہ برس اپوزیشن نے پارلیمان کی کارروائی میں بے انتہا رخنے ڈالے تھے۔ اب ایسی اطلاعات ہیں کہ حکومت اس معاملے پر تعطل کے خاتمے کے لیے اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات کے لیےتیار ہے۔ بتایا گیا ہے کہ حکومت نے ایسے اشارے بھی دیے ہیں کہ وہ ٹیلی کوم اسکینڈل کی تحقیقات کے لیے بین الجماعتی تحقیقاتی کمیشن قائم کرنے پر تیار ہو گئی ہے۔ خبر رساں ادارے اے ایف کے مطابق اس حوالے سے کوئی اہم اعلان منگل تک متوقع ہے۔

دوسری طرف وزیر اعظم منموہن سنگھ نے اس اجلاس سے قبل امید کا اظہار کیا ہے کہ بجٹ کی منظوری کے لیے بلوایا جانے والا رواں پارلیمانی اجلاس پر امن رہے گا،’ ہمیں امید ہے کہ پارلیمان کا یہ سیشن پر امن اور تعمیری رہے گا۔‘ خاتون صدر پرتیبھا پٹیل نے پارلیمان سے خطاب کرتے ہوئےملک کے دو اہم مسائل یعنی بدعنوانی اور افراط زر کی بڑھتی ہوئی شرح کو حل کرنے کی یقین دہانی کروائی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اس حوالے سے شدید تحفظات رکھتی ہے اور اس کے عوام پر براہ راست اثرات سے بھر پور واقف ہے۔

بھارتی حکومت کا موقف ہے کہ ملکی ترقی کے لئے غیر ملکی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے اور اسی لئے غیر ملکیوں کمپنیوں کے لئے موبائل ٹھیکے دیے گئے۔ تاہم سنگھ حکومت پر بدعنوانی کے حوالے سے لگائے جانے والے ان الزامات کو کانگریس جماعت کی گزشتہ سات سالہ حکومت میں سب سے زیادہ سنگین قرار دیا جا رہا ہے۔ اپوزیشن کا یہ بھی الزام ہے کہ حکومت اس معاملے میں تحقیقات میں جان بوجھ کر سستی کا مظاہرہ کر رہی ہے۔

اکیس اپریل تک جاری رہنے والے اس پارلیمانی سیشن میں اٹھائیس فروری کو ملک کے لیے عام مالی بجٹ پیش کیا جائے گا۔

رپورٹ : عاطف توقیر

ادارت : عاطف بلوچ

DW.COM

ویب لنکس