1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

ٹیلی کوم اسکینڈل: وینوگوپال اور راج کمار دھوت سے تفتیش

بھارت میں ٹیلی کوم اسکینڈل مزید وسعت اختیار کر گیا ہے۔ اب پولیس نے ویڈیوکون گروپ کے چیئرمین اور ان کے سیاستدان بھائی کو بھی شامل تفتیش کر لیا ہے اور اس حوالے سے ان سے پوچھ گچھ کی گئی ہے۔

default

ریلائنس پاور کے سربراہ انیل امبانی

پولیس کے ایک ترجمان نے خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا، ’ویڈیوکون گروپ کے چیئرمین وینوگوپال دھوت اور ان کے بھائی رکن پارلیمنٹ راج کمار دھوت سے پیر کو دہلی میں پوچھ گچھ کی گئی۔ ان سے ٹیلی کوم اسکینڈل سے متعلق سوال پوچھے گئے۔‘

یہ تفتیشی عمل سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) کے تحت عمل میں آیا، جو حکومت کی جانب سے ٹوجی موبائل فون کے لائسنس جاری کرنے میں مبینہ ہیرپھیر کی تفتیش کا حصہ ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ 2008ء میں یہ لائسنس اونے پونے داموں دے دیے گئے تھے۔

راج کمار دھوت بھارتی ریاست مہاراشٹر سے رکن پارلیمنٹ منتخب ہوئے ہیں۔ وینوگوپال دھوت ٹیلی کوم انڈسٹری سے جڑے ہیں اور اس اسکینڈل کے حوالے سے تفتیش کا حصہ بننے والی متعدد ہائی پروفائل شخصیتوں میں سے ایک ہیں۔ گزشتہ ہفتے سی بی آئی نے Essar کمپنی کے سربراہ پرشانت رُویا اور ریلائنس پاور کے سربراہ انیل امبانی سے بھی اس حوالے سے پوچھ گچھ کی تھی۔

Andimuthu Raja

سابق بھارتی وزیر مواصلات اے راجا

اس اسکینڈل میں ملوث ہونے کی بناء پر رواں ماہ سابق وزیر برائے ٹیلی کوم اے راجا کو ان کے دو معاونین کے ساتھ گرفتار کر لیا گیا تھا، جن میں راجا کے سابق پرائیویٹ سیکریٹری سدھارتھ بہورا بھی شامل ہیں۔ سی بی آئی کے مطابق قبل ازیں محکمہ ٹیلی مواصلات کے نامعلوم اہلکاروں، کمپنیوں اور دیگر افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا، جن پر فوجداری قوانین اور اینٹی کرپشن ایکٹ کی خلاف ورزی کرنے کا الزام تھا۔

خیال رہے کہ بدعنوانی سے متعلق اسے بھارت کا سب سے بڑا مقدمہ قرار دیا جا رہا ہے۔ گزشتہ برس سی بی آئی نے اعلان کیا تھا کہ ٹیلی کوم اسکینڈل کے اس مقدمے کی تحقیقات رواں برس مارچ تک مکمل ہوں گی۔

بھارت میں حکمران جماعت کو اس ٹیلی کوم اسکینڈل نے پریشان کر رکھا ہے۔ اس کی وجہ اپوزیشن پارٹیوں کا دباؤ رہا ہے، جو دہلی حکومت سے اس اسکینڈل کے حوالے سے جوائنٹ پارلیمانی کمیٹی کی تشکیل کا مطالبہ کرتی رہی ہیں۔ اسی بناء پر پارلیمنٹ کی کارروائی بھی معطل رہی ہے۔ اس اسکینڈل کو ملک کے سیاسی حلقوں کی مزید بدنامی کا باعث بھی قرار دیا جا چکا ہے۔

رپورٹ: ندیم گِل/خبررساں ادارے

ادارت: امتیاز احمد

DW.COM