1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ٹیلی فون ہیکنگ: مرڈوک کی جانب سے اخبارات میں معذرت کا اشتہار

نیوز کارپوریشن کے سربراہ روپرٹ مرڈوک نے اپنے ایک جریدے نیوزآف دا ورلڈ کے ٹیلی فون ہیکنگ میں ملوث ہونے پر برطانوی اخباروں میں معذرت کا اشتہار شائع کیا ہے۔

default

مرڈوک کی جانب سے برطانیہ کے اخباروں میں پورے صفحے پر مشتمل معذرت کے اشتہار شائع کیے گئے ہیں جن پر مرڈوک کے دستخط بھی ہیں۔ اس اشتہار میں کہا گیا ہے کہ ’ہم نیوز آف دا ورلڈ کی غلطیوں پر معذرت خواہ ہیں۔‘

جمعے کو نیوز کارپوریشن کے دو سینیئر عہدیدار بھی اسی سلسلے میں مستعفی ہو گئے۔

نیوز کارپوریشن کی طرف سے گزشتہ ہفتے 168 برس سے شائع ہونے والے اور ساڑھے سات ملین قارئین کے اخبار نیوز آف دا ورلڈ کی اچانک بندش کے باوجود برطانیہ میں ٹیلی فون ہیکنگ کا معاملہ ابھی تک خاصا گرم ہے۔

جمعے کے روز نیوز کارپوریشن کے مزید دو اعلیٰ عہدیداروں ربیکا بروکس اور لیس ہنٹن کے استعفے منظور کر لیے گئے۔ اس معاملے کی وجہ سے نیوز کارپوریشن جیسے دنیا کے ایک بڑے میڈیا ادارے کو شدید دھچکے سے نکالنے کے لیے اس کے سربراہ مرڈوک کو خود متاثرین سے معذرت کرنا پڑی ہے۔

مرڈوک نے خصوصی طور پر ایک برطانوی اسکول کی مقتول طالبہ مِلی ڈاؤلر کے والدین سے بھی معذرت چاہی۔ سن 2002ء میں، جب بروکس نیوزآف دا ورلڈ کی ایڈیٹر تھیں اور اس اخبار کی سرپرستی ہنٹن کے ذمے تھی، اغوا ہونے والی اس طالبہ کے فون کی وائس میلز یا صوتی پیغامات ہیک کئے گئے تھے۔

Rupert Murdoch nach Treffen mit den Eltern der ermordeten Milly Dowler in London Flash-Galerie

مرڈوک نے اس سلسلے میں باضابطہ معذرت کی ہے

نیوز آف دا ورلڈ پر فون ہیکنگ کا الزام دس روز قبل ایک حریف اخبار نے عائد کیا تھا۔ اس چونکا دینے والے الزام کے بعد نیوز آف دا ورلڈ کے نگران ادارے نیوزکارپوریشن کے سربراہ کو یہ تاریخی اخبار نہ صرف اچانک بند کرنا پڑا بلکہ ساتھ ہی ساتھ 12 بلین ڈالر کے اُس منصوبے سے بھی دستبردار ہونا پڑا، جس کے تحت نیوز کارپوریشن برطانیہ کا انتہائی منافع بخش پے ٹی وی آپریٹر بی اسکائی بھی خریدنے جا رہی تھی۔

نیوز کارپوریشن کے سربراہ کو منگل کے روز اس معاملے کی جوابدہی کے لیے پارلیمانی کمیٹی کے روبرو بھی پیش ہونا ہے۔

مرڈوک کی طرف سے براہ راست جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے، ’نیوزآف دا ورلڈ کا کام یہ تھا کہ وہ لوگوں کا احتساب کرے، مگر وہ اپنا احتساب کرنے میں ناکام رہا۔ ہم ان بےضابطگیوں کے لیے معذرت خواہ ہیں۔ ہم ان سب افراد سے معافی کے خواستگار ہیں، جو اس سے متاثر ہوئے‘۔

رپورٹ : عاطف توقیر

ادارت : امجد علی

DW.COM