1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ٹیلی فون ٹیپ کرنے کا الزام، ’ٹرمپ ثبوت فراہم کریں‘

ڈونلڈ ٹرمپ پر اپنی ہی سیاسی پارٹی کی طرف سے دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ ثبوت پیش کریں کہ سابق امریکی صدر باراک اوباما نے الیکشن مہم کے دوران ان کے ٹیلی فون کی نگرانی کے احکامات جاری کیے تھے۔

خبر رساں ادارے اے پی نے پانچ مارچ بروز اتوار ری پبلکن پارٹی کے سینیٹر بن سیس کے حوالے سے بتایا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنے ان الزامات کی صداقت کو واضح کرنے کی خاطر شواہد پیش کرنا چاہییں۔

’ٹرمپ کی انتخابی مہم کے روس سے رابطے‘: پارلیمانی تفتیش ہو گی

ٹرمپ کے ’زہریلے بیانات نے دنیا کو تاریک تر‘ کر دیا، ایمنسٹی

’ٹرمپ ہمارے صدر نہیں‘، امریکا میں مظاہرے

ٹرمپ نے الزام عائد کیا ہے کہ گزشتہ برس الیکشن مہم کے آخری مہینے میں سابق صدر اوباما نے ان کے ٹیلی فون ٹیپ کرنے کا حکم دیا تھا۔ تاہم انہوں نے اس تناظر میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا تھا۔ ٹرمپ کے اس الزام کے بعد اوباما نے کہا ہے کہ انہوں نے کسی امریکی شہری کی نگرانی کا حکم نہیں دیا تھا۔

ہفتے کی شب سابق امریکی صدر باراک اوباما کے ترجمان نے کہا تھا کہ ٹرمپ کی طرف سے عائد کردہ یہ الزامات ’بے بنیاد‘ ہیں۔ ہفتے کے دن امریکی صدر ٹرمپ نے اپنی ٹوئیٹس کی ایک سیریز میں اسی بابت اپنے پس رو کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

ری پبلکن سینیٹر بین سیس نے کہا ہے کہ ٹرمپ کی طرف سے عائد کیے جانے والے یہ الزامات سنگین نوعیت کے ہیں اور انہیں بتانا چاہیے کہ انہیں اپنے فون ٹیپ کیے جانے کے حوالے سے کیسے خبر ہوئی۔

وائٹ ہاؤس نے بھی ایسے سوالات کے جوابات نہیں دیے ہیں کہ صدر ٹرمپ نے اوباما پر یہ الزامات کیوں عائد کیے ہیں۔ ٹرمپ نے بھی یہ الزامات عائد کرتے ہوئے صرف یہی کہا تھا کہ انہیں معلوم ہوا ہے کہ اوباما نے ان کے ٹیلی فون کی نگرانی کا حکم دیا تھا۔

تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ آیا انہیں کسی خفیہ ادارے نے اس بابت کوئی بریفنگ دی ہے، یا ان کی معلومات کا ذریعہ کچھ اور ہے۔

گزشتہ برس کے امریکی صدارتی انتخابات میں ڈیموکریٹ صدارتی امیدوار ہلیری کلنٹن کو شکست دینے والے ری پبلکن سیاستدان ڈونلڈ ٹرمپ نے رواں برس بیس جنوری کو صدر کا عہدہ سنبھالا تھا۔

الیکشن مہم کے دوران ٹرمپ کی ٹیم پر الزامات عائد کیے گئے تھے کہ وہ روسی حکام کے ساتھ رابطے میں تھے اور روسی ہیکرز نے امریکی ووٹرز کی رائے پر اثرانداز ہونے کی کوشش کی تھی۔ ٹرمپ اور ماسکو حکومت دونوں ہی ان الزامات کو مسترد کرتے ہیں تاہم امریکا میں اس حوالے سے انکوائری کا سلسلہ جاری ہے۔

DW.COM