1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

ٹیلیوژن یا کمپیوٹر سکرین کے سامنے زیادہ وقت، دل کے لئے خطرناک

موٹر گاڑی کی سیٹ سے دفتر کی کرسی تک، کمپیوٹر مانیٹر کے سامنے سے ٹیلی ویژن اسکرین کے آگے تک: غیر صحت مندانہ معمول زندگی، ہارٹ فیل کا باعث

default

حال ہی میں امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن جرنل میں شائع ہونے والی ایک رپوٹ سے یہ انکشاف ہوا ہے کہ ٹیلی ویژن اسکرین یا کمپیوٹر کے مانیٹر کے سامنے ہر روز کئی کئی گھنٹے بیٹھے رہنے سے امراض قلب اور دیگر بیماریوں کے سبب موت واقع ہونے کے امکانات بہت زیادہ بڑھ جاتے ہیں ۔

صحت کے لئے نہایت مضر ثابت ہونے والے اس معمول یا عادت کے بارے میں آسٹریلیا کے ماہرین نے ایک نئی ریسرچ کی جس کے نتائج سے یہ انکشاف ہوا ہے کہ ایسے افراد بھی جن کا وزن زیادہ نہیں ہے ، اگر روزانہ گھنٹوں کمپیوٹر مانیٹر یا ٹیلی ویژن اسکرین کے آگے اپنا وقت صرف کریں تو ان کے اندر کئی قسم کی بیماریاں جنم لیتی ہیں ، جو اکثر موت کا باعث بنتی ہیں۔

محققین کی 6 سال پر محیط اس ریسرچ کے دوران دن بھر میں صرف دو گھنٹے ٹیلی ویژن کے سامنے بیٹھنے والوں اور 4 گھنٹے سے زیادہ اس عمل میں وقت صرف کرنے والوں کے اندر جان لیوا بیماریوں کی شرح کا اندازہ لگایا گیا۔ چار گھنٹے سے زیادہ اسکرین کے سامنے بیٹھنے والوں میں ہر طرح کی بیماریوں کے نتییجے میں ہونے والی اموات کی شرح دو گھنٹے اس عمل میں صرف کرنے والوں کے مقابلے میں 46 فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ چار گھنٹوں سے زائد ٹیلی ویژن یا کمپیوٹر اسکرین کے سامنے بیٹھے رہنے والے افراد کے اندر کارڈیو ویسکیولر یا قلب کے عارضے کے نتیجے میں واقع ہونے والی موت کے امکانات 80 فیصد زیادہ ہوتے ہیں۔ جب کہ ایسے افراد میں موت کا باعث بننے والے موزی مرض کینسر یعنی سرطان کے خطرات بھی 9 فیصد بڑھ جاتے ہیں۔

Games Convention Online in Leipzig 2009

آسٹریلیا کی ریاست ویکٹوریا میں قائم ٫بیکر ہارٹ اینڈ ڈائی بیٹیز انسٹیٹیوٹ میں 50 سال کے 9 ہزار افراد پر یہ ریسرچ مسلسل 6 سال تک کی گئی۔ تحقیق سے پتہ چلا کہ اوسط وزن سے زیادہ بھاری جسم والے افراد کے علاوہ متوازن وزن والے ایسے افراد جو بیشتر وقت کرسیوں پر بیٹھ کر گزارتے ہیں، ان میں بلڈ شوگر اور بلڈ فیٹ جان لیوا حد تک بڑھ جا تا ہے۔

آسٹریلوی محققین نے 3846 مردوں اور 4954 خواتین کو تین گروپس میں تقسیم کیا اور ان کے لائف اسٹائل کو مسلسل مانیٹر کیا۔ ایک گروپ وہ تھا جس میں شامل افراد دن بھر میں دو گھنٹے سے کم ٹیلی ویژن دیکھتے تھے، دوسرا گروپ ایسے افراد پر مشتمل تھا جو دو سے چار گھنٹے ٹیلی ویژن کے سامنے بیٹھتے تھے اور تیسرے گروپ میں وہ افراد شامل تھے جو چار گھنٹے سے زیادہ وقت ٹیلی ویژن یا کمپیوٹر اسکرین کے سامنے گزارتے تھے۔ یہی وہ افراد تھے جن کے بارے میں ماہرین کی ریسرچ کے نتائج سے معلوم ہوا کہ ان کی صحت پر سب سے زیادہ مضر اثرات صرف ان کی اسی عادت یا معمول کے سبب مرتب ہوئے ہیں-

ماہرین کے مطابق امراض قلب کی نارمل وجوہات مثلا تمباکو نوشی، ہائی بلڈ پریشر ، خون میں کولسٹرول یا فیٹ جسے عام زبان میں چربی کہتے ہیں کی زیادتی، غیر مناسب غذا کا استعمال یا جسمانی ورزش کی کمی سے قطع نظر ٹیلی ویژن یا کمپیوٹر اسکرین کے سامنے بیٹھ کر بہت زیادہ وقت گزارنے والوں کے اندر دل کی بیماریوں کا خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے۔

رپورٹ : کشورمصطفیٰ

ادارت : افسر اعوان

ملتے جلتے مندرجات