1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ٹھٹھہ اور شہداد کوٹ کو ابھی بھی سیلابی ریلے سے خطرہ

پاکستان میں حالیہ شدید سیلابوں کے بعد ملک کے بہت سے علاقوں میں پانی کی سطح بتدریج کم ہو نے کی اطلاعات ہیں مگر جنوبی صوبہ سندھ میں حکام ابھی تک دو قصبوں کو سیلابی تباہی سے بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

default

سیلابی پانی کا ایک بڑا ریلا مزید تباہی پھیلا سکتا ہے

کراچی سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق جنوبی سندھ کے علاقوں میں، جہاں سیلابی پانی کا ایک بہت بڑا ریلا ممکنہ طور پر مزید تباہی پھیلا سکتا ہے۔ حکام کی کوشش ہے کہ ٹھٹھہ اور شہداد کوٹ کو پوری طرح زیر آب آنے سے کسی نہ کسی طرح بچایا جائے۔

Pakistan Flut NO FLASH

ایک ملین شہری گزشتہ چند روز میں اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے

ان قصبوں اور جنوبی سندھ کے دیگر علاقوں کو ملکی تاریخ کے سب سے تباہ کن سیلابوں کے نتیجے میں زیر آب آجانے سے بچانے کے لیے حکام گزشتہ کئی روز سے کوشش کر رہے ہیں تاہم یہ خطرات بھی موجود ہیں کہ یہ قصبے اور ان کے نواحی علاقے سیلاب کی زد میں آ سکتے ہیں۔

مون سون کی غیر معمولی حد تک شدید بارشوں کے بعد آنے والے یہ سیلاب وسیع تر مادی نقصانات کا باعث بن رہے ہیں۔ پورے پاکستان میں ان سیلابوں کی وجہ سے سولہ سو سے زائد شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔ ان سیلابوں کے باعث ملک کا تقریبا پانچواں حصہ پانی میں ڈوب چکا ہے اور بیس ملین سے زائد شہری متاثر ہوئے۔ ان متاثرین میں کم ازکم وہ چھ ملین شہری بھی شامل ہیں، جو بے گھر ہو چکے ہیں۔

ان میں سے ایک ملین شہری گزشتہ محض چند روز کے دوران سندھ کے مختلف علاقوں میں اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔

انہی سیلابوں کے باعث پاکستانی معیشت ، زراعت اور بنیادی ڈھانچے کو مجموعی طور پر ایک ہزار ارب روپے سے زائد کا نقصان بھی ہوا جبکہ اربوں مالیت کی کھڑی فصلیں تباہ ہو چکی ہیں۔

Pakistan / Flut / Hochwasser

غذائی کمی اور مختلف بیماریاں متاثرین کےبڑے مسئلے

تازہ ترین رپورٹوں کے مطابق پاکستان میں ان سیلابوں سے اب تک نو ملین ایکڑ زرعی اراضی متاثر ہوئی ہے، جس کے بعد زرعی شعبے کی آئندہ پیداوار بھی کم ازکم ایک چوتھائی کم رہے گی۔

دریں اثنا اقوام متحدہ کے ذرائع نے اس تشویشناک صورتحال کی نشاندہی کی ہےکہ پاکستان میں مجموعی طور پر دو کروڑ سے زائد سیلابی متاثرین میں شامل لاکھوں بچوں میں سے ہزار ہا کی زندگی کو ابھی بھی شدید خطرات لاحق ہیں۔

اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ پینے کے صاف پانی کی عدم موجودگی اور ہنگامی بنیادوں پر مناسب اشیاء خوراک دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے غذائی کمی اور مختلف بیماریوں کی وجہ سے ہزار ہا بچے موت کے منہ میں جا سکتے ہیں۔

رپورٹ: عصمت جبیں

ادارت : عدنان اسحاق

DW.COM

ویب لنکس