1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

ٹيلی وژن اور ریڈیو پر بھارتی مواد نشر کرنے پر مکمل پابندی

پاکستان نے ٹی وی اور ریڈیو پر کسی بھی طرح کا بھارتی مواد چلانے پر مکمل پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ دونوں ممالک کا ایک طبقہ ايسی ثقافتی پابنديوں کے خلاف نظر آ رہا ہے۔

پاکستان میں ٹی وی اور ریڈیو پر کسی بھی طرح کا بھارتی مواد چلانے پر مکمل پابندی کا اطلاق اس جمعے يعنی اکيس اکتوبر سے ہو رہا ہے۔ پاکستانی میڈیا ریگوليٹری اتھارٹی، پیمرا کے ترجمان محمد طاہر نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بيس اکتوبر کے روز بتایا کہ ادارے نے سابق صدر پرويز مشرف کے دور میں بھارتی مواد کو دی گئی یکطرفہ رعایت منسوخ کرنے کا فيصلہ کيا ہے۔

بھارتی فلموں اور دیگر تفریحی مواد پر پابندی کا چند حلقوں نے خیر مقدم کیا لیکن کچھ لوگوں کے خیال میں اس عمل کا فائدے سے زیادہ نقصان ہے۔ پاکستانی صحافی اور ٹی وی اینکر اویس توحید نے ڈی ڈبلیو سے گفتگو میں کہا، ’’پاکستان اور بھارت دونوں ممالک میں امن پسند لوگ چاہتے ہیں کہ باہمی تعلقات میں ایک کھڑکی کھلی رہے جس کے ذریعے اداکاروں، کھلاڑیوں، سیاحوں اور صحافیوں کے تبادلے جاری رہیں لیکن اب اس کھڑکی کے بند ہونے سے پاکستان اور بھارت میں موجود روشن خیال طبقہ گھٹن محسوس کر رہا ہے۔‘‘ 

Bollywood Schauspieler Fawad Khan (m) (Ausschnitt)

بھارت میں پاکستانی فنکاروں کے کام کرنے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے

اسی ہفتے بھاری ہدایت کار اور پروڈیوسر کرن جوہر نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ وہ آئندہ پاکستانی اداکاروں کو اپنی فلموں کا حصہ نہیں بنائیں گے۔ کرن جوہر کی فلم ’اے دل ہے مشکل‘ میں پاکستانی اداکار فواد خان مرکزی کردار ادا کر رہے تھے۔ اُڑی حملے کے بعد کرن جوہر کو بھارت کی انتہا پسند تنظیموں نے دھمکی دی تھی کہ وہ اس فلم کو بھارت میں ریلیز نہیں ہونے دیں گے۔ بھارت میں بھی اس سخت رویے کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے اور کہا جارہا ہے کہ کرن جوہر نے انتہائی دباؤ میں یہ ویڈیو پیغام جاری کیا ہے تاکہ ان کی فلم بھارت میں ریلیز ہو سکے۔ نامور بھارتی صحافی برکھا دت نے اس حوالے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر لکھا، ’’مجھے شرم ہے کہ میں ایسے معاشرے کا حصہ ہوں جس نے کرن جوہر کو اپنے وطن سے محبت دکھانے پر مجبور کر دیا ہے۔‘‘

پاکستان اور بھارت دونوں روایتی حریفوں کے درمیان اس برس جولائی سے تناؤ جاری ہے۔ بھارتی زیر انتظام کشمیر میں بھارتی افواج نے حزب المجاہدین تنظیم کے رہنما برہان وانی کو جولائی میں ہلاک کر دیا تھا۔ دونوں ممالک کے تعلقات میں مزید کشیدگی ستمبر میں آئی جب پاک بھارت سرحدی علاقے اڑی میں بھارتی افواج پر مبینہ عسکریت پسندوں نے حملہ کر دیا۔ اس حملے میں انیس بھارتی فوجی ہلاک ہوگئے تھے۔ اس کے چند دن بعد بھارت نے پاکستان ميں ایک مبینہ سرجیکل اسٹرائیک کرنے کا دعوی کيا جبکہ پاکستان نے ايسی خبروں کو مسترد کر ديا ہے۔

بھارت نے پاکستان میں منعقد ہونے والی سارک کانفرنس میں بھی شرکت سے انکار کر دیا اور پاکستان کو سفارتی طور پر تنہا کرنے کی کوشش کی۔ بھارت میں بڑھتے ہوئے پاکستان مخالف جذبات کے باعث بالی وڈ انڈسٹری میں پاکستانی اداکاروں کے کام کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ پاکستان میں بھی سینماؤں میں بھارتی فلموں کی نمائش ممنوع ہے۔