1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

ٹویٹر پیغامات سے مزاج کے اتار چڑھاؤ کا اندازہ

سماجی رابطوں، اطلاعات اور مائیکرو بلاگنگ کی سروس ٹویٹر کے بارے میں کی جانے والی ایک نئی تحقیق سے ہمارے مزاج کی کیفیت اور اس کے اتار چڑھاؤ کے بارے میں نئے حقائق سامنے آئے ہیں۔

default

نیویارک کی کورنل یونیورسٹی کے ماہرین عمرانیات نے اس تحقیق کی بنیاد 500 ملین ٹویٹر پیغامات کو بنایا ہے جن سے یہ پتہ چلتا ہے کہ دن اور ہفتے کے مختلف اوقات میں ہمارے مزاج میں کس طرح تبدیلیاں واقع ہوتی ہیں۔

مؤقر تحقیقی جریدے سائنس میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں دو برس کے عرصے کے دوران 84 ملکوں کے 24 لاکھ افراد کے انگریزی زبان میں ٹویٹر پیغامات کا جائزہ لیا گیا۔ تحقیق کی غرض سے متن کا تجزیہ کرنے والے ایک خصوصی پروگرام کو استعمال کیا گیا اور الفاظ کو مختلف نفسیاتی زمروں میں رکھا گیا۔ اس تحقیق میں ان لوگوں کے پیغامات کو شامل نہیں کیا گیا جو دن میں 25 سے کم ٹویٹر پیغامات ارسال کر رہے تھے۔

ماہرین نفسیات مائیکل میسی اور اسکاٹ گولڈر کے مطابق، ’’صبح سویرے اور نصف شب سے کچھ دیر پہلے ارسال کیے جانے والے ٹویٹر پیغامات میں زیادہ امید بھرا رنگ نظر آیا۔‘‘

DW Sprachkurse Deutsch CommunityD

دن یا ہفتے کے مختلف اوقات میں بھیجے جانے والے ٹویٹر پیغامات سے مزاج میں ہونے والی تبدیلیوں کی عکاسی ہوتی ہے

تحقیق سے یہ بھی اندازہ ہوا کہ دن کے اوقات میں بھیجے جانے والے ٹویٹ پیغامات میں کام کے دباؤ کی جھلک محسوس ہوتی ہے۔

ہفتہ کار کے مقابلے میں اختتام ہفتہ پر بھیجے جانے والے پیغامات میں بھی اس کے سوا کوئی خاص تبدیلی نظر نہیں آئی کہ پیغامات میں مثبت رنگ غالب تھا۔

اس چیز کا کسی مخصوص ملک یا ثقافت سے کوئی تعلق ثابت نہیں ہوا۔ متحدہ عرب امارات میں جمعے اور ہفتے کے دنوں میں مثبت رویوں کا زیادہ اظہار دیکھا گیا کیونکہ وہاں اختتام ہفتہ ان دو دنوں پر ہوتا ہے۔

ماہرین نفسیات میسی اور گولڈر نے نیویارک ٹائمز میں لکھا، ’’یہ بہت اہم دریافت ہے کیونکہ اس کی ایک وضاحت یہ کی جا سکتی ہے کہ لوگوں کو کام پر جانا ناپسند ہے۔ تاہم اگر یہ بات ہوتی تو پھر یہ چیز اختتام ہفتہ پر کافی مختلف ہونی چاہیے تھی، مگر ایسا نہیں ہے۔ اس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ اس میں جسمانی کیفیات میں تبدیلیوں جیسی کسی اہم چیز کا کردار بھی ہو سکتا ہے۔‘‘

اختتام ہفتہ پر ارسال کیے جانے والے ٹویٹر پیغامات دو گھنٹے کی تاخیر سے شروع ہو تے ہیں کیونکہ لوگ دیر سے سو کر اٹھتے ہیں۔ ملازمت کے دباؤ کے علاوہ نیند کا بھی مزاج پر گہرا اثر ہوتا ہے۔

رپورٹ: حماد کیانی

ادارت: امجد علی

DW.COM