1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

ٹویٹر اور فیس بک کے بغیر، احتجاج بھی غیر مؤثر

بھارت سے تعلق رکھنے والی اروم شرمیلا گزشتہ دس برسوں سے فوج کے ہاتھوں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف بھوک ہڑتال پر ہیں اور انہیں زندہ رکھنے کے لیے ناک کے راستے زبر دستی خوراک دی جا رہی ہے۔

default

دنُیا کی اس طویل ترین بھوک ہڑتال کا المیہ یہ ہے کہ اس کو میڈیا کی وہ سپورٹ حاصل نہیں ہوئی، جو انا ہزارے کو ملی ہے اور یہی وجہ ہے کہ شرمیلا دنیا میں مشہور نہیں ہو پائیں اور وہ اس بات پر مایوس بھی ہیں۔

شرمیلا، جو بھارت کی شمال مشرقی ریاست منی پور میں بھوک ہڑتال پر ہیں، کا مطالبہ ہے کہ علاقے میں فوج کو حاصل وسیع تر ہنگامی اختیارات کو فوری طور پر ختم کیا جائے۔

شرمیلا نے تہلکہ میگزین کو بتایا کہ انہوں نے کئی مرتبہ نئی دہلی تک اپنی بات پہنچانے کی کوشش بھی کی ہے لیکن انہیں میڈیا کی سپورٹ اور بھرپور عوامی حمایت حاصل نہیں ہو سکی۔ اس کے برعکس سماجی کارکن انا ہزارے کو عوامی حمایت کے ساتھ ساتھ بھرپور میڈیا کوریج بھی ملی ہے۔ ٹویٹر، فیس بُک اور ایک نجی ٹی وی چینل کی مدد سے یہ بزرگ سماجی کارکن عالمگیر شہرت حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ ان کی اس شہرت نے بھارتی حکومت کو پریشانی میں ڈال دیا ہے۔ انا ہزارے اور ان  کے حامیوں کو شروع سے ہی سوشل میڈیا کی حمایت حاصل رہی ہے۔

Flash-Galerie Anna Hazare

انا ہزارے

بھارت میں ’ہزارے کا بھارت کرپشن کے خلاف‘ ویب سائٹ کا کہنا ہے کہ ان کو کرپشن کے خلاف اس تحریک کے حق میں تیرہ ملین فون کالز موصول ہوئی ہیں اور فیس بُک پر ان کے صفحے کو تقریبا پانچ لاکھ لوگوں نے پسند کیا  ہے۔  ہزارے کے حامیوں نے اس تحریک کے بارے میں  لمحہ بہ لمحہ ٹویٹر کے ذریعے لوگوں تک اپنے پغامات پہنچائے، یہاں تک کے کارکنوں کی گرفتاریوں سے لے کر وزیراعظم من موہن سنگھ اور ان کے وزیروں کے ساتھ مذاکرات سے بھی آگاہ  کیا گیا۔

Indien Demonstration gegen Korruption

انا ہزارے اور ان کے حامیوں کو شروع سے ہی سوشل میڈیا کی حمایت حاصل رہی ہے۔

اروم شرمیلا کے واقعے نے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اس دور میں میڈیا کی غیر متوازن رپورٹنگ کو بھی بےنقاب کیا ہے۔ ایشیا کی تیسری بڑی معشیت میں ایک طرف تو میڈیا کی انا ہزارے کو بھرپور سپورٹ حاصل ہے اور دوسری طرف لاکھوں غریب لوگ اس کی عدم توجہ کا شکار ہیں۔ ’سینٹر فار انٹرنیٹ اینڈ سوسائٹی‘ نامی تھنک ٹینک کے سربراہ نشانت شاہ کا کہنا ہے، ’’میڈیا کی سپورٹ پہلی مرتبہ اتنے لوگوں کی آواز کے ساتھ ہے لیکن یہ ابھی بھی قومی تحریک کی بجائے صرف شہروں میں رہنے والی مڈل کلاس کی تحریک ہے‘‘۔

 فیس بُک اور ٹویٹر کا بمشکل بھارت کے کچھ ہی حصوں میں استعمال کیا جاتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ دیہی علاقوں کے باشندے اس تحریک سے کوسوں دور ہیں۔ بھارت میں بہت سے سماجی مسائل ہیں۔ مثلا غریب کسانوں کی زمینوں کا مسئلہ، نسلی امتیازی سلوک اور کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتوں میں اضافے جیسے مسائل میڈیا کی وہ توجہ حاصل نہیں کر پائے ہیں، جو انا ہزارے کو ملی ہے۔

رپورٹ: سائرہ ذوالفقار

ادارت: امتیاز احمد   

DW.COM