1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

ٹونٹی ٹونٹی کرکٹ اور پاکستانی کرکٹ بورڈ کی خواہش

پاکستان کرکٹ بورڈ نے سن دو ہزار چودہ کے ٹوئنٹی ٹوئنٹی کرکٹ ورلڈ کپ ٹورنامنٹ کی میزبانی کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ اس سلسلے میں پاکستانی بورڈ نے کرکٹ کے نگران ادارے سے بات چیت شروع نہیں کی ہے۔

default

گزشتہ ٹونٹی ٹونٹی ورلڈ کپ کے میچوں کے دوران پاکستانی شائقین کھلے آسمان کے نیچے میچوں کا لطف لیتے ہوئے۔

پاکستانی کرکٹ بورڈ کے چیرمین اعجاز بٹ کو دیگر پاکستانیوں کی طرح اِس بات کا یقین ہے کہ اگلے پانچ برسوں میں پاکستان میں سیکیورٹی اور سلامتی کی مجموعی صورت حال بہتر جائے گی۔ ایسے میں غیر ملکی ٹیموں کو پاکستان کا دورہ کرنے میں کسی پریشانی کا سامنا نہیں کرنے پڑے گا۔

Younis Khan im Spiel England Pakistan

انگلینڈ میں کھیلے گئے ٹونٹی ٹونٹی ورلڈ کپ کے ایک میچ کے دوران یونس خان

اس وقت پاکستان کی کرکٹ بورڈ کو دو عالمی ٹورنامنٹ کا نقصان برداشت کرنا پڑ ا ہے۔ سیکیورٹی کی بہتر صورت حال نہ ہونے کی وجہ سے پہلے سن 2008ء میں پاکستان کے اندر کھیلی جانے والی چیمپیئنز ٹرافی کو جنوبی افریقہ منتقل کردیا گیا اور پھر سن دو ہزار گیارہ کے ورلڈ کپ کے میزبان ملکوں میں سے پاکستان کا نام خارج کردیا گیا۔

دونوں ٹورنامنٹس میں پاکستان جا کر کھیلنے کے لئے بیشتر ٹیمیں انکاری تھیں۔ ایسے میں سری لنکا کی ٹیم کے دورہٴ پاکستان کو غنیمت سمجھا جا رہا تھا کہ لاہور میں کھلاڑیوں پر دہشت گردانہ حملے سے رہی سہی کسر بھی نکل گئی۔ سری لنکا کی ٹیم پر دہشت گردانہ حملے کے بعد انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے کم از کم سن دو ہزار گیارہ تک بین الاقوامی کر کٹ سے پاکستان کو اِس طرح خارج کیا کہ پاکستان دوسرے ممالک میں کھیل سکتا ہے لیکن غیر ملکی ٹیمیں پاکستان نہیں جائیں گی۔

اِس صورت حال میں اب پاکستان دوسرے ملکوں میں جا کر غیر ملکی ٹیموں کے خلاف ہوم سیریز مکمل کر رہا ہے۔ اگلے ہفتوں میں خلیجی ریاست ابُو ظہبی میں نیوزی لینڈ کے خلاف ایک روزہ میچوں کی سیریز کھیلی جانے والی ہے اور اگلے سال انگلینڈ میں پاکستان اور آسٹریلیا کی ٹیسٹ سیریز کے میچ کھیلے جائیں گے۔

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی ایگزیکٹیو کمیٹی کا خصوصی اجلاس جنوبی افریقی شہر جوہانس برگ میں اکتوبر کی چھ اور سات تاریخوں کو ہو رہا ہے۔ ابھی سن دو ہزار چودہ کےٹوئٹنی ٹوئٹنی ورلڈ کپ کے لئے میزبان ملکوں کی تلاش کا عمل شروع نہیں کیا گیا ہے۔ اِس سلسلے میں اگلے سال کے آخر میں معاملات کی ابتداء کا امکان ہے۔