1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

ٹونٹی ٹونٹی عالمی کپ: پاکستان فائنل میں

برطانیہ میں جاری آئی سی سی ٹونٹی ٹونٹی عالمی کپ کے سیمی فائنل میں پاکستان نے جنوبی افریقہ کو ایک سنسنی خیز مقابلے کے بعد جمعرات کی شام کو سات رنزسے شکست دے دی ہے۔

default

پاکستانی ٹیم کے کپتان یونس خان نے امید ظاہر کی ہے کہ پاکستان فائنل جیت کر ٹونٹی ٹونٹی عالمی کپ اپنے نام کرلے گا

Younis Khan im Spiel England Pakistan

سیمی فائنل میں پاکستانی ٹیم نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرنے کا فیصلہ کیا اور بیس اوورز میں ایک سو انچاس رنز بنائے


پاکستانی آل راؤنڈر شاہد آفریدی نے چونتیس گیندوں پر اکاون رنز بنائے اور دوسری اننگز میں چار اوورز کرا کے سولہ رنز کے عوض دو وکٹیں بھی حاصل کیں۔

اتوار کے روز پاکستانی ٹیم لارڈز کے میدان پر فائنل کھیلے گی جس میں اس کا مقابلہ دوسرے سیمی فائنل کی فاتح ٹیم، سری لنکا یا ویسٹ انڈیز سے ہوگا۔ دوسرا سیمی فائنل آج جمعہ کے روز کھیلا جا رہا ہے۔

سیمی فائنل میں پاکستانی ٹیم نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرنے کا فیصلہ کیا اور بیس اوورز میں ایک سو انچاس رنز بنائے۔ جواب میں جنوبی افریقہ کی ٹیم پانچ وکٹیں گنوا کر ایک سو بیالیس رنز بنا سکی۔

جنوبی افریقہ کی جانب سے ژاک کیلس نے چوّن گیندوں پر چونسٹھ رنز بنائے تاہم شاہد آفریدی کی بولنگ نے میچ کا پانسا پلٹ دیا۔

Chris Gayle

فائنل میں پاکستان کا مقابلہ ویسٹ انڈیز یا سری لنکا سے ہوگا


پاکستانی ٹیم کے کپتان یونس خان نے امید ظاہر کی ہے کہ پاکستان فائنل جیت کر ٹونٹی ٹونٹی عالمی کپ اپنے نام کرلے گا۔ انہوں نے شاہد آفریدی کی پرفارمنس کو سراہتے ہوئے کہا کہ آفریدی میچ جتانے والے کھلاڑیوں میں سے ہیں۔

یونس خان نے یہ بھی کہا کہ پاکستانی ٹیم کبھی بھی ٹورنامنٹ میں فیورٹ نہیں ہوتی تاہم وہ بتدریج بہتر کھیل کا مظاہرہ کرتی ہے اور خاص طور پر بڑے میچوں میں اس کی کارکردگی اچھی ہوتی ہے۔

میچ کے بعد شاہد آفریدی کا کہنا تھا کہ یہ پاکستان کے فائنل تک پہنچنے کا واحد موقع تھا اور وہ بے حد خوش ہیں کہ پاکستان فائنل میں پہنچ چکا ہے۔ شاہد آفریدی نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے کپتان یونس خان سے درخواست کی تھی کہ ان کو تیسرے نمبر پر یا بطور اوپنر کھلایا جائے اور یونس خان نے ان کو تیسرے نمبر پر کھلایا۔

جنوبی افریقہ کے کپتان گریم اسمتھ نے میچ میں اپنی ٹیم کی کارکردگی کو عمدہ قرار دیا اور کہا کہ ان کی ہار پاکستان کی عمدہ کارکردگی کے باعث ہوئی ہے۔

DW.COM