1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

ٹور دی فرانس کا نواں مرحلہ مکمل

ٹور دی فرانس سائیکل ریس سائیکلنگ کے کھیل کی غیر سرکاری عالمی چیمپیئن شپ کہلاتی ہے۔ اس سال اس ریس کا آغاز ماہ رواں کی تین تاریخ کو ہوا تھا۔ افتتاحی مقام ہالینڈ کا شہر روٹر ڈیم تھا اور اختتام پیرس میں ہو گا۔

default

اینڈی شلیک: نویں سٹیج کے ونر

تین جولائی سے شروع ہونے والی ٹور ڈی فرانس سائیکل ریس کل 20 مراحل پر مشتمل ہے اور ان میں سے نواں مرحلہ منگل کو مکمل ہو گیا۔ اس ریس کی بیسویں اور آخری سٹیج 25 جولائی کو فرانسیسی دارالحکومت پیرس میں مکمل ہو گی۔

ترتیب کے اعتبار سے امسالہ ٹور ڈی فرانس اپنی نوعیت کا 97 واں مقابلہ ہے۔ اس تاریخی ریس کی ابتدا سن 1903 میں ہوئی تھی۔ رواں سال کی ریس میں شریک سائیکل سوار مجموعی طور پر 3642 کلو میٹر کا فاصلہ طے کریں گے۔ اس ریس کے لئے کل 23 دن مختص ہیں۔ دو روز آرام کے لئے رکھے گئے ہیں۔ ریس کے ہزاروں کلومیٹر طویل راستے میں کئی پہاڑ بھی ہیں اور میدان بھی۔

نویں سٹیج کے مکمل ہونے پر اینڈی شلیک (Andy Schleck) کو برتری حاصل ہے۔ اس طرح وہ نمبر ون کی پوزیشن پر براجمان سائیکل سوار کے طور پر زرد جرسی کے حقدار بن گئے ہیں۔ ان سے پہلے ریس لیڈر کیڈل

Tour de France Thor Hushovd

ٹور ڈی فرانس کے شرکاء

ایونز (Cadel Evans) کو نویں مرحلے کے دوران ٹوٹے ہوئے بازو کے ساتھ سائیکل چلانے میں خاصی دشواری کا سامنا تھا۔ اگر موجودہ ریس لیڈر اینڈی شلیک اگلے دو تین مرحلوں میں اپنی سبقت بڑھا لیتے ہیں تو چار دن بعد پہاڑی Pyreneean مراحل میں ان کو راحت مل سکتی ہے۔

شلیک کو سردست دفاعی چیمپیئن آلبیرٹو کونٹا ڈور (Alberto Contador) پر 41 سیکنڈ کی برتری حاصل ہے۔ کونٹا ڈور ابھی تک امسالہ ٹور دی فرانس کے فیورٹ خیال کئے جا رہے ہیں۔ آسٹریلیا کے کیڈل ایونز کا شمار ان سائیکلسٹوں میں ہوتا تھا، جو ٹور دی فرانس جیت سکتے تھے لیکن ان کے ایک بازو کے فریکچر نے ان کو نویں سٹیج میں تقریباً باہر کردیا ہے۔ ان کا یہ بازو اتوار کو ایک حادثے میں ٹوٹا تھا۔

نویں مرحلے کی تکمیل پر زرد جرسی حاصل کرنے والے اینڈی شلیک کو اس بات کا ادراک ہے کہ پہاڑی مراحل میں آلبیرٹو کونٹاڈور کی مہارت مسلمہ ہے۔ شلیک کو یقین ہے کہ وہ اس ہسپانوی سائیکل سوار کا مشکل اور دشوار گزار پہاڑی مراحل میں بھرپور انداز میں مقابلہ کریں گے۔ دوسری جانب ٹور دی فرانس کے ماہرین کا خیال ہے کہ Pyreneean کے مشکل مراحل ہی اصل میں ٹور دی فرانس کے فاتح کا تعین کریں گے۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: مقبول ملک

DW.COM