ٹوائلٹ سے سولر لیمپ تک، دیہی خواتین کے تحفظ کی اختراعات | معاشرہ | DW | 18.12.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

ٹوائلٹ سے سولر لیمپ تک، دیہی خواتین کے تحفظ کی اختراعات

بھارت میں دیہی خواتین کے تحفظ کے لیے اختراعاتی عمل مختلف پہلووں سے جاری ہے۔ اس مناسبت میں مختلف دیہات تک رسائی حاصل کر کے خواتین کو معلومات فراہم کی جا رہی ہیں۔

 بھارتی دیہی خواتین کی زندگیوں کو محفوظ بنانے کے سلسلے میں جو جدید تکنیکی اختراعات سامنے آئی ہیں، اُن میں سے چند ایک حسب ذیل ہیں:

ٹائیگر ٹوائلٹ

انسٹیٹیوٹ فار ٹرانسفورمیٹیو ٹیکنالوجی کے کارکن بھارت کے مختلف دیہات میں پہنچ کر نئی ٹائیگر ٹوائلٹس کی معلومات فراہم کر رہے ہیں۔ ان ٹائیگر ٹوائلٹس میں انسانی فضلے کو گیڑے مکوڑوں کے ذریعے ختم کیا جاتا ہے۔ اس انسٹیٹیوٹ کے مطابق ختراعی ٹائیگر ٹوائلٹس ٹیکنالوجی کو لڑکیاں جلد سمجھ لیتی ہیں اور اس کے مقبول ہونے کی یہی بنیادی وجہ ہے۔

نئی دہلی: خواتین کے خلاف جرائم، لیڈیز پولیس کا خصوصی اسکواڈ

بھارت: کم عمری کی شاديوں کی روک تھام ميں مساجد کا کردار

بھارت: ریپ کے بعد ایک ہی خاتون پر چوتھی بار تیزاب حملہ

نئی دہلی میں ہر چار گھنٹے میں ایک ریپ

یہی لڑکیاں ٹائیگر ٹوائلٹ اپنی ماؤں کی مدد سے اپنے گھروں میں نصب کرنے کے لیے پُرجوش ہیں۔ انسٹیٹیوٹ فار ٹرانسفورمیٹیو ٹیکنالوجی کی سربراہ نوپُر کپور کہتی ہیں، " ٹوائلٹس کے حوالے سے لڑکیوں کی رائے خاندانوں پر اثرانداز ہوئی ہے اور وہ انہیں نصب کرانے کے لیے اپنے خاندانوں کو آمادہ کرنے میں مرکزی کردار ادا کرتی ہیں۔"  وہ مزید کہتی ہیں کہ یہ بچیاں اپنے خاندانوں کو اپنی حفاظت اور پرائیویسی کے حوالے لاحق خدشات کے تناظر میں قائل کرنے میں کامیابی حصل کر رہی ہیں۔

Indien Rajasthan Toilette (imago stock&people)

بھارتی ریاست جے پور میں قائم ایک پبلک ٹوائلٹ

یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ بھارت کی 1.25 بلین افراد پر مشتمل آبادی میں سے 60 فیصد آبادی کو صحت و صفائی کےمناسب انتظامات میسر نہیں ہیں اور وہ کھلے مقامات پر رفع حاجت کرنے پر مجبور ہیں۔ دیہی علاقوں میں رفع حاجت کے لیے جانے والی خواتین کو جنسی اور جسمانی حملوں کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔

روشنی کے انتظامات

رپورٹ کے مطابق بھارت کی ایک چوتھائی آبادی کو بجلی تک رسائی حاصل نہیں۔ خاص طور سے کئی دیہی علاقوں میں توانائی تک رسائی کا کوئی قابل بھروسہ ذریعہ موجود نہیں۔ ایسے میں سولر پاور کی گرتی قیمتوں اور 2019 تک بھارت کے ہر شہری کی بجلی تک رسائی کا بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے کیے جانے والے وعدے کے بعد بہار، اترپردیش اور جھاڑکھنڈ سمیت کئی غریب ترین علاقوں میں شمسی توانئی سے چلنے والے چھوٹے گرڈ پھیل رہے ہیں۔ یہ شمسی توانائی سے چلنے والے گرڈ نہ صرف کم قیمت ہیں بلکہ زندگی کے معیار کو بہتر بنانے میں بھی انتہائی مددگار ثابت ہو رہے ہیں۔

Solar Indien (dapd)

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے سن 2019 تک ہر گاؤں تک بجلی پہنچانے کا وعدہ کر رکھا ہے



سانپ کے کاٹے سے بچاو میں مدد

 بہار، اترپردیش اور جھاڑکھنڈ کے دس فیصد سے بھی کم گھر شمسی توانائی سے روشن ہوئے ہیں اور ان علاقوں کی 87 فیصد خواتین کا کہنا ہے کہ وہ اندھیرے میں اب گھروں سے باہر نکلنے سے کم گھبراتی ہیں۔ حکومتی اعداد وشمار کے مطابق بہاراور اترپردیش میں خواتین کو سب سے زیادہ تشدد، اغوا اور ریپ کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اس روشنی کی وجہ سے دیہات کے لوگوں کے سانپ کے کاٹنے سے محفوظ رہنے میں مدد ملی ہے۔  گلوبل آف گرڈ لائٹنگ ایسوسیشن سے تعلق رکھنے والے ویرج گاڈا کہتے ہیں کہ ایک چھوٹا سا سولر لیمپ خواتین کے لیے نقل حرکت کے لیے فائدہ مند ثابت ہو رہا ہے۔

DW.COM