1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

ٹوائلٹ: بھارت کے ایک اہم معاشرتی موضوع پر فلم

اگلے ماہ بھارتی سنیما گھروں میں نمائش کے لیے پیش کی جانے والی فلم ’ٹوئلٹ: ایک پریم کتھا‘ روایتی بالی وڈ فلموں سے قدرے مختلف ہے۔ یہ فلم بھارتی معاشرے کو درپیش ایک انتہائی اہم مسئلے کی نشاندہی کر رہی ہے۔

بھارت میں بننے والی فلمیں عام طور پر موسیقی، ہیجان انگیز رقص اور رنگا رنگ ملبوسات کے حوالے سے جانی جاتی ہیں تاہم جلد ہی ریلیز ہونے والی فلم ’’ٹوائلٹ: ایک پریم کتھا‘‘ کے پروموٹرز کا کہنا ہے کہ اب بالی وُڈ میں ایک انتہائی اہم اور بھارتی معاشرے کے لیے ایک سنجیدہ معاملے یعنی کھلی جگہوں پر رفع حاجت کے معاملے کو کسی فلم کا موضوع بنایا گیا ہے۔

اس فلم میں بھارتی سنیما کے ایک نامور ستارے اکشے کمار بھی اداکاری کے جوہر دکھا رہے ہیں۔ اس فلم کو 11 اگست کو ریلیز کیا جائے گا اور یہ دنیا کی پہلی فیچر فلم ہو گی جس میں نکاسی آب کے ناقص نظام اور بیت الخلاء کو موضوع بنایا گیا ہے اور رفع حاجت کے صدیوں پرانے سماجی عقائد کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

اس فلم کی پبلک ریلشنگ کرنے والی کمپنی اسٹرلنگ میڈیا کے مطابق، ’’ٹوائلٹ: ایک پریم کتھا دراصل بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی طرف سے چلائی جانے والی ’سواچ بھارت ابھیان‘ یعنی بھارت کو صاف کرو نامی مہم کو مد نظر رکھتے ہوئے تیار کی گئی ہے۔ اس مہم کا مقصد بھارت میں نکاسی آب کے نظام کھلی جگہوں پر رفع حاجت کے مسئلے میں بہتری لانا ہے۔‘‘

اس کمپنی کی طرف سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق، ’’اس فلم کے ٹریلر کو ریلیز کرنے کے دو دن کے اندر 25 ملین افراد نے دیکھا ہے، اس لیے یہ فلم بھارت میں متوقع طور پر ایک بڑا اور گہرا اثر چھوڑے گی۔‘‘

واٹر ایڈ کے مطابق بھارت میں 76 ملین شہریوں کو پانی کے بہتر ذرائع کی ضرورت ہے جب کہ 770 ملین شہریوں کو مناسب بیت الخلاء کی ضرورت ہے۔ اس ادارے کے مطابق بھارت میں ہر سال پانچ برس سے کم عمر کے 68,000 بچے آلودہ پانی اور نامناسب نکاسی آب کے سبب پیدا ہونے والی پیٹ کی بیماریوں کی وجہ سے ہلاک ہو جاتے ہیں۔

DW.COM