1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

ٹمبکٹو میں مزارات کو کیوں تباہ کیا؟ مقدمہ اگلے ہفتے سے

مالی میں مسلم شدت پسندوں نے 2012ء میں تقریباً چودہ تاریخی مزارات کو تباہ کر دیا تھا۔ اس تباہی کو جنگی جرم قرار دے کر جہادیوں کے خلاف مقدمے قائم کیے گئے تھے۔ اب اگلے ہفتے اس سلسلے میں سماعت دوبارہ شروع ہو رہی ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق مسلم بزرگان دین اور اولیاء کی ان درگاہوں کو منہدم کرنے سے متعلق اس مقدمے کی کارروائی دی ہیگ میں قائم جنگی جرائم کی عالمی عدالت میں شروع ہو گی۔ دی ہیگ میں احمد الفقی المہدی سے اس تباہی میں اُس کے مبینہ کردار کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ المہدی کا تعلق طوارق قبائل کی شدت پسند تنظیم انصار الدین سے ہے، جو القاعدہ المغرب کی ایک شاخ سمجھی جاتی ہے۔ 2013ء میں فرانس کی مداخلت کے بعد ٹمبکٹو اور ملحقہ علاقوں کو انصار الدین کے تسلط سے آزاد کرا لیا گیا تھا۔

یہ شدت پسند درگاہوں یا دیگر مقدس مقامات پر جانے کو بت پرستی سے تعبیر کرتے ہوئے اسے مشرکانہ عمل قرار دیتے ہیں۔ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ کوئی مسلم شدت پسند اس نوعیت کے کسی مقدمے میں دی ہیگ کی عالمی عدالت میں پیش ہو رہا ہے۔ منگل یکم مارچ کو عدالت الفقی کے خلاف مقدمہ چلانے یا خارج کرنے کے بارے میں فیصلہ دے گی۔

ٹمبکٹو کے مختلف قبرستانوں اور مسجدوں میں بائیس مزارات واقع ہیں۔ ٹمبکٹو کا شمار پندرہویں اور سولہویں صدی کے فکری، معاشی اور روحانی مراکز میں ہوتا تھا۔ اس شہر کے مکین ان مزارات کو اپنے تحفظ کی علامت سمجھتے ہیں اور مدد کے لیے بھی ان مزارات پر جا کر ہاتھ اٹھاتے ہیں۔ یہاں پر شادی، بارش اور صحت کے لیے دعائیں بھی کی جاتی ہیں اور افریقہ کے مختلف علاقوں سے یہاں لوگ زیارت کے لیے بھی آتے ہیں۔

1988ء میں ان میں سے تیرہ درگاہوں کو عالمی ثقافتی ورثے میں شامل کر دیا گیا تھا، جس کے بعد یونیسکو بھی ان کی دیکھ بھال کر رہا تھا۔ عمارتوں کی تعمیر و مرمت کے کام کی نگرانی البخاری بن عیسیوتی کرتے رہے۔ ان کے بقول ان مقبروں کو اولیاء کے رشتہ داروں اور ان کے مریدوں نے تعمیر کیا تھا۔ یہی لوگ کئی صدیوں تک ان کی حفاظت اور دیکھ بھال کرتے رہے۔ ان مزارات کی دوبارہ تعمیر اور مرمت کا کام جولائی 2015ء میں مکمل ہو گیا تھا۔ تاہم اس حوالے سے باقاعدہ تقریب رواں برس چار فروری کو منعقد کی گئی۔ اس موقع پر قرآن خوانی ہوئی اور جانوروں کی قربانی دینے کے بعد ان مقبروں کی چابیاں انہی افراد کے حوالے کر دی گئیں، جو ان کی حفاظت کرتے رہے ہیں۔