1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ٹرین حملہ ناکام بنانے والوں کے لیے اعلیٰ ترین فرانسیسی ایوارڈ

فرانسیسی صدر نے تین امریکیوں اور ایک برطانوی شہری کو فرانس کا سب سے اعلیٰ ایوارڈ دیا ہے۔ ایمسٹرڈیم سے پیرس جانے والی ایک ٹرین میں ان چاروں مسافروں نے ایک کلاشنکوف بردار مسلح حملہ آور کو قابو کر لیا تھا۔

جن چار افراد کو فرانس کے سب سے اعلیٰ ایوارڈ ’’لیجن آف آنر‘‘ سے نوازا گیا ہے، ان میں سے دو آف ڈیوٹی امریکی فوجی تھے۔ پیر کے روز ان چاروں نے پیرس میں صدر فرانسوا اولانڈ سے ملاقات کی۔ اس موقع پر اولانڈ نے ان چاروں افراد کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے سب کے لیے حوصلے اور جرات مندی کی ایک مثال قائم کر دی ہے۔ فرانسیسی صدر کا اس موقع پر کہنا تھا، ’’ اس کے باوجود کی، جن دو افراد نے سب سے پہلے حملہ آور کو قابو کرنے کی کوشش کی، وہ فوجی تھے لیکن جمعے کے روز وہ صرف اور صرف مسافر تھے۔ انہوں نے فوجیوں کی طرح ردعمل ظاہر کیا لیکن ذمہ دار مرد ہونے کا بھی مظاہرہ کیا ہے۔‘‘

آج فرانسیسی صدر نے ’’لیجن آف آنر‘‘ کے تمغے امریکی فوجیوں سپینسر اسٹون، ایلیک سکیرلٹس اور ان کے دیرینہ دوست انتھونی سیڈلر کے سینے پر سجائے جبکہ اس حملہ آور کو قابو کرنے میں مدد فراہم کرنے والے برطانوی تاجر کرس نارمن کو بھی اسی اعزاز سے نوازا گیا۔

Frankreich, Mann schießt im Zug von Paris nach Amsterdam

ملزم نے جس ٹرین پر حملے کی کوشش کی تھی، اس پر پانچ سو سے زائد مسافر گرفتار تھے

فرانسیسی صدر فرانسوا اولانڈ کا مزید کہنا تھا، ’’ان افراد نے یہ سبق سکھایا ہے کہ دہشت گردی کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے اور ہم میں مزاحمت کرنے کی صلاحیت ہے۔‘‘ برطانوی تاجر کرس نارمن کا یہ اعزاز وصول کرنے کے بعد کہنا تھا کہ یہ ہیرو بننے کے لیے نہیں بلکہ اپنی بقاء کے لیے تھا، ’’میری دعا ہے کہ آپ کے ساتھ ایسا نہ ہو لیکن آپ کو واقعی ایک مرتبہ اس بارے میں سوچنا چاہیے۔ اگر میرے ساتھ ایسا ہوا تو مجھے کیا کرنا چاہیے؟‘‘

مسلح حملہ آور کی شناخت 26 سالہ مراکشی شہری ایوب الخزانی کے نام سے کی گئی ہے۔ فرانس کی انسداد دہشت گردی کی پولیس اس ملزم سے پوچھ گچھ میں مصروف ہے۔ اس ملزم نے جس ٹرین پر حملے کی کوشش کی تھی، اس پر پانچ سو سے زائد مسافر سوار تھے۔

گزشتہ روز اس حملہ آور کی وکیل سوفی ڈیوڈ نے بتایا کہ ان کے موکل کا دعویٰ ہے کہ اس کے پاس کلاشنکوف اصل میں ٹوٹی ہوئی حالت میں تھی، جو قابل استعمال نہیں تھی اور اسے یہ کلاشنکوف ایک سوٹ کیس میں برسلز کے ایک پارک سے ملی تھی۔ وکیل سوفی ڈیوڈ نے بتایا، ’’اس نے سوچا کہ وہ اس طرح کچھ پیسے بنا سکتا ہے اور کھانے پینے کے لیے سامان حاصل کر سکتا ہے۔‘‘

ہسپانوی پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ شخص سن دو ہزار سات سے سن دو ہزار چودہ تک اسپین میں رہا، جب کہ اسے متعدد مرتبہ منشیات کی تجارت کی وجہ سے حراست میں لیا گیا۔ فی الحال یہ ملزم انسداد دہشت گردی کی پولیس کی تحویل میں ہے اور اس سے تفتیشی عمل جاری ہے۔