1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ٹریزا مے نئی برطانوی وزیر اعظم، بورس جانسن نئے وزیر خارجہ

ٹریزا مے نے بدھ سے برطانیہ کی نئی وزیر اعظم کی ذمے داریاں سنبھال لی ہیں اور اُنہوں نے غیر متوقع طور پر برطانیہ کے یورپی یونین سے نکل جانے کے لیے مہم چلانے والے رہنما بورس جانسن کو ملک کا نیا وزیر خارجہ بنا دیا ہے۔

Großbritannien Theresa May in der Downing Street 10

ٹریزا مے وزیر اعظم بننے کے بعد ٹین ڈاؤننگ اسٹریٹ میں آ رہی ہیں

اُنسٹھ سالہ ٹریزا مے نے یہ عہدہ ڈیوڈ کیمرون کی جگہ سنبھالا ہے، جنہوں نے تئیس جون کو منعقدہ اُس ریفرنڈم کے بعد اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا تھا، جس میں برطانوی عوام کی اکثریت نے یورپی یونین سے نکل جانے کے حق میں ووٹ دیے تھے۔ اس ریفرنڈم کے بعد سیاسی منظر نامہ درہم برہم ہو کر رہ گیا تھا اور مالیاتی منڈیاں بھی ہِل کر رہ گئی تھیں۔

خود ٹریزا مے بھی برطانیہ کے بدستور یورپی یونین میں شامل رہنے کی حامی تھیں لیکن اب نئے حالات میں اُنہوں نے کابینہ کا ایک سینیئر عہدہ لندن شہر کے سابق میئر بورس جانسن کو دیا ہے، جنہوں نے ’بریگزِٹ‘ کی مہم کی قیادت کی تھی۔ اس طرح اُنہوں نے ریفرنڈم کے نتیجے میں پارٹی کے اندر پیدا ہونے والی تقسیم کو ختم کرنے کے لیے فوری اقدامات کا آغاز کر دیا ہے۔

دوسری طرف یہ ایک متنازعہ فیصلہ بھی ہے کیونکہ جہاں جانسن نے بریگزٹ مہم کی قیادت کرتے ہوئے یورپی یونین کے بہت سے رہنماؤں کو ناراض کیا تھا، وہیں انہوں نے کیمرون کی جانشینی کی دوڑ سے نکل جانے کا فیصلہ کرتے ہوئے اپنے حامیوں کو مایوس بھی کیا تھا۔

مے نے کیمرون کے ایک قریبی ساتھی جارج اوسبورن کو وزیر خزانہ کے عہدے سے ہٹاتے ہوئے یہ ذمہ داری سابق وزیر خارجہ فیلپ ہیمنڈ کو سونپ دی ہے اور اُنہیں ایسے خدشات کو ختم کرنے کا کام تفویض کیا ہے کہ برطانیہ کے اپنی سب سے بڑی منڈی کو چھوڑ دینے کے منفی اثرات برآمد ہوں گے۔

یورپی یونین کے حوالے سے شکوک و شبہات رکھنے والے سابق وُزراء ڈیوڈ ڈیوس اور لیئم فوکس کو بالترتیب بریگزٹ کے سلسلے میں مذکرات کار اور بین الاقوامی تجارت کے وزیر کی ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔ برطانوی ریفرنڈم کے نتائج سے پوری دنیا کو دھچکا لگا تھا۔

Großbritannien Boris Johnson

لندن شہر کے سابق میئر بورس جانسن کو نیا وزیر خارجہ بنایا گیا ہے

یورپی یونین کے رہنما برطانیہ کے یونین سے اخراج سے متعلق مذاکرات کے جلد از جلد آغاز کے لیے زور دے رہے ہیں۔ خود مے بھی، جو مارگریٹ تھیچر کے بعد برطانیہ میں دوسری خاتون وزیر اعظم ہیں، یہ کہہ چکی ہیں کہ ’بریگزٹ کا مطلب بریگزٹ‘ ہے، یہ عوامی فیصلہ حتمی ہے اور اس حوالے سے کوئی دوسرا ریفرنڈم کروانے کا کوئی پروگرام نہیں ہے۔

وزارتِ عظمیٰ کا منصب سنبھالتے ہی مے نے جرمن چانسلر انگیلا میرکل کو فون کیا۔ میرکل نے مے کو جرمنی کے دورے کی دعوت دی۔ مے نے فرانس اور آئرلینڈ کے رہنماؤں سے بھی فون پر بات چیت کی۔ عالمی رہنماؤں کی طرف سے مے کو مبارکباد کے پیغامات کا سلسلہ بھی جاری ہے۔