1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

ٹرکوں میں چھپ کر آسٹریا پہنچنے کی کوشش، پاکستانی بھی شامل

آسٹرین پولیس کے مطابق انسانوں کے اسمگلر اب سربمہر مال بردار ٹرکوں میں لوگوں کو چھپا کر انہیں آسٹریا پہنچانے کی کوششوں میں ہیں۔ ایسے ہی ایک کوشش کے تحت چار پاکستانی شہریوں کو بھی اسمگل کرنے کی کوشش کی گئی۔

خبر رساں ادارے اے پی نے بائیس جون بروز بدھ آسٹریا کی پولیس کے حوالے سے بتایا ہے کہ حالیہ کچھ عرصے سے غیر قانونی تارکین وطن کو ٹرکوں میں چھپا کر انہیں خفیہ طور پر آسٹریا لانے کی کوششوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

بتایا گیا ہے کہ مہر بند مال بردار ٹرکوں میں غیر قانونی مہاجرین کو چھپا کر سرحد پار کرانے کی متعدد کوششیں ناکام بنائی جا چکی ہیں۔

رواں ہفتے کے دوران ہی ایسے دو واقعات دیکھے گئے، جن میں انسانوں کے اسمگلروں نے دس افراد کو ٹرکوں میں چھپا کر آسٹریا پہنچانے کی کوشش کی۔

سلووینیہ کی سرحد کے قریب ہی ایک واقعے میں ایک ٹرک کے ڈرائیور نے مشتبہ آوازیں سننے کے بعد پولیس سے رابطہ کیا تو معلوم ہوا کہ اس ٹرک میں لوگوں کو چھپایا گیا تھا۔

بعد ازاں تلاشی کے بعد اس ٹرک سے پانچ عراقی باشندے برآمد ہوئے، جن میں دو شیر خوار بچے بھی شامل تھے۔

اسی طرح بوسنیا کے ایک ٹرک سے چار پاکستانیوں کے ساتھ ساتھ ایک افغان شہری بھی برآمد ہوا۔ یہ ٹرک بھی سلووینیہ سے متصل آسٹرین علاقے میں سفر پر تھا۔ اس کیس میں بھی ڈرائیور نے مشتبہ آوازیں سننے کے بعد سکیورٹی فورسز کو مطلع کر دیا تھا۔

عمومی طور پر یورپی یونین کے باہر سے آنے والے ایسے مہر بند مال بردار ٹرکوں کی سیل اسی وقت کھولی جاتی ہے، جب وہ اپنی منزل پر پہنچ جاتے ہیں۔

Lastwagen mit toten Flüchtlingen in Österreich ARCHIV

رواں ہفتے ایسے دو واقعات رونما ہوئے، جن میں اس طریقے سے پاکستانی شہریوں کو بھی اسمگل کرنے کی کوشش کی گئی

اسی لیے انسانوں کے اسمگلروں نے لوگوں کی غیر قانونی طور پر اس بلاک میں اسمگلنگ کی خاطر یہ طریقہ اختیار کرنے کی کوشش کی ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ مغربی بلقان کے سرحدی راستوں کی بندش کے نتیجے میں اب مہاجرین اور تارکین وطن یورپی یونین میں داخل ہونے کے مختلف طریقے استعمال کرنے کی کوشش میں ہیں۔ اسی روٹ کے ذریعے گزشتہ برس ہزاروں مہاجرین آسٹریا داخل ہونے میں کامیاب ہوئے تھے۔

ملتے جلتے مندرجات