1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

ٹروئے ڈیوس کو بالآخر موت کی سزا دے دی گئی

امریکی ریاست جارجیا میں ٹروئے ڈیوس نامی اس سیاہ فام امریکی کو بالآخر سزائے موت دے دی گئی، جسے اگرچہ عدالت مجرم قرار دے چکی تھی مگر اس کا مقدمہ متنازعہ رہا اور یہ معاملہ موت کی سزا کے خلاف عالمگیر تحریک کی علامت بنا۔

default

سابق امریکی صدر جمی کارٹر اور کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ بینیڈکٹ تک ڈیوس کے لیے رہائی کی اپیلیں کرچکے ہیں۔ ان کے علاوہ لاکھوں عام شہریوں نے بھی ڈیوس کے لیے آن لائن رہائی کی اپیلیں کر رکھی تھیں۔  اس تناظر میں مقدمے پر لسانی رنگ کے غالب رہنے کے اشارے بھی ملے۔ جیکسن کے علاقے میں جس جیل کے اندر ڈیوس کو زہریلے انجیکشن کے ذریعے موت کی نیند سلایا گیا، اس کے باہر سینکڑوں افراد اُن کی شبیہہ والے ماسک پہنے جمع تھے۔

ڈیوس پر ۱۹۸۹ء  میں ایک پولیس اہلکار مارک میک پھیل کو قتل کرنے کا الزام تھا، جو برگر کنگ کی دکان کے باہر سلامتی کی ذمہ داریاں نبھا رہا تھا۔ ۲۰ سال سے جاری اس مقدمے میں تین بار ڈیوس کی موت کی سزا پر عملدرآمد معطل کیا گیا تھا۔ ڈیوس کی سزائے موت سے شاید میک پھیل کے خاندان والوں کو کچھ سکون ملا ہو مگر ڈیوس کو بے گناہ سمجھنے والوں کی تعداد وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بڑھتی رہی ہے۔

Nachricht Aufschub der Hinrichtung von Troy Davis Georgia USA

ایک موقع پر حاضرین میں خوشی کی لہر دوڑ گئی جب یہ جھوٹی خبر پھیلی کہ سپریم کورٹ نے ڈیوس کی سزا پر عملدرآمد ملتوی کر دیا ہے

 

ڈیوس کی زندگی کے آخری لمحات کے عینی شاہد، مقامی ریڈیو اسٹیشن کے صحافی جون لیوس نے بتایا، ’’ جب اس سے آخری بیان کے لیے کہا گیا تو اس سے اپنے سامنے موجود مارک میک پھیل کے خاندان والوں کی طرف دیکھا اور کہا کہ میرے پاس ہتھیار نہیں تھا، میں نے آپ لوگوں کے والد، بیٹے اور بھائی کو قتل نہیں کیا اور میں بے گناہ ہوں۔‘‘ یہ مقدمہ اس لیے بھی خاصا کمزور تھا کہ اس میں آلہء قتل یا کوئی اور ٹھوس ثبوت پیش نہیں کیے گئے بلکہ عینی شاہدین کے بیانات کو بنیاد بنایا گیا تھا۔ گواہان میں سے بھی بعض نے وقت کے ساتھ اپنے بیانات بدل دیے تھے۔

فرانس اور جرمنی کی جانب سے ڈیوس کی سزا کی مذمت سامنے آچکی ہے۔ جرمن نائب وزیر خارجہ برائے انسانی حقوق مارکوس لیونش کے بقول، ’’ اُس کے مجرم ہونے سے متعلق اب بھی شبہات موجود تھے، فیصلے کی غلطی کو واپس نہیں کیا جا سکتا‘‘۔ فرانسیسی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ انہیں بے حد افسوس ہے کہ رحم کی کئی اپیلیں نہیں سُنی گئیں۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: حماد کیانی

DW.COM