1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ٹرمپ کے نئے سکیورٹی ایڈوائرز، میک ماسٹر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مائیکل فلِن کے استعفے کے بعد نیا سکیورٹی ایڈوائزر تعینات کر دیا ہے۔ ان کے نئے سکیورٹی ایڈوائزر امریکی فوج کے ایک لیفٹیننٹ جنرل ہیں۔

نئے امریکی صدر ٹرمپ کی طرف سے پیر 20 فروری کو اعلان کیا گیا کہ اس عہدے کے لیے متعدد امیدواروں سے انٹرویو کے بعد انہوں نے ہیربرٹ ریمونڈ میک ماسٹر کو اس عہدے کے لیے منتخب کیا ہے۔

میک ماسٹر امریکی فوج میں لیفٹیننٹ جنرل ہیں اور وہ عراق اور افغانستان میں ذمہ داریاں نبھا چکے ہیں۔ ٹرمپ کی طرف سے یہ اعلان ایک ایسے روز سامنے آیا جب نائب امریکی صدر برسلز کے دورے پر تھے اور انہوں نے یورپی یونین کے ساتھ امریکی تعاون اور پارٹنر شپ جاری رکھنے کا اعلان کیا۔

جنرل مائیکل فِلن نے 13 فروری کو اپنے عہدے سے استعفے دے دیا تھا۔ فلن کی طرف سے روسی حکومت کے ساتھ رابطوں اور پھر یہ بات تسلیم کرنے کے بعد سخت دباؤ تھا کہ انہوں نے روسی حکومت سے رابطوں کے بارے میں نائب صدر اور ملکی تحقیقاتی ایجنسی ایف بی آئی سے غلط بیانی کی تھی۔

Us-Präsident Trump ernennt Generalleutnant H.R. McMaster zum Nationalen Sicherheitsberater (Reuters/K. Lamarque)

54 سالہ میک ماسٹر کو ویتنام میں امریکی فوجی کردار پر تنقید کے حوالے سے جانا جاتا ہے

جنرل مائیکل فِلن کے استعفے کے بعد امریکی ریٹائرڈ ایڈمرل رابرٹ ہارورڈ کو بھی اس ذمہ داری کی پیشکش کی گئی تھی تاہم انہوں نے اس سے معذرت کر لی تھی۔ بعض اطلاعات کے مطابق ہارورڈ اپنی پسندیدہ ٹیم لانا چاہتے تھے جس سے انکار پر انہوں نے یہ عہدہ سنھبالنے سے انکار کر دیا تھا۔

وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق ٹرمپ نے ’’میک ماسٹر کو یہ مکمل اختیار دیا ہے کہ وہ جسے بھی مناسب سمجھیں اپنے اسٹاف میں شامل کر سکتے ہیں۔‘‘

54 سالہ میک ماسٹر کو ویتنام میں امریکی فوجی کردار پر تنقید کے حوالے سے جانا جاتا ہے۔ ٹرمپ نے میک ماسٹر کو ’’انتہائی با صلاحیت اور بہت زیادہ تجربہ رکھنے والا شخص‘‘ قرار دیا ہے: ’’فوج میں ہر ایک کی نظر میں ان کی بہت زیادہ عزت ہے اور ان کی شمولیت ہمارے لیے عزت کی بات ہے۔‘‘

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق میک ماسٹر ٹرمپ کے مشیروں کی طویل فہرست میں ایک اور ایسا نام ہے جن کا تعلق ملکی فوج سے ہے۔ کئی دیگر عہدے داروں کے علاوہ ٹرمپ انتظامیہ کے وزیر دفاع اور ملکی داخلی سکیورٹی کے سربراہان بھی سابق فوجی افسران ہیں۔