1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ٹرمپ کے لیے ایک اور مشکل

امریکی خفیہ اداروں نے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کوآگاہ کیا ہے کہ روسی حکام کےدعوے کے مطابق اُن کے پاس ٹرمپ کی انتہائی اہم ذاتی اور مالی معلومات ہیں۔ ٹرمپ نےاسے ایک من گھڑت خبر اور سیاسی چال قرار دیا ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے سی این این اور اخبار نیو یارک ٹائمز کے مطابق گزشتہ ہفتے امریکی خفیہ اداروں کی جانب سے ڈونلڈ ٹرمپ اور موجودہ سربراہ مملکت باراک اوباما کو دو صفحات پر مبنی ایک دستاویز پیش کی، جس میں اُن باتوں یا واقعات کی تفصیلات درج ہیں، جو اِن کے لیے امکاناً شرمندگی کا باعث ہو سکتے ہیں۔

ٹرمپ سے متعلق جن خبروں کا ذکر کیا جا رہا ہے، ان کا تعلق 2013ء میں اُن کے دورہٴ ماسکو سے ہے۔ اس دورے میں ٹرمپ نے ماسکو کے ایک پر تعیش ہوٹل میں قیام کیا تھا اور اس دوران انہوں نے جسم فروش خواتین کے ساتھ سکیس ویڈیوز بنائی تھیں۔ کہا جا رہا ہے کہ یہ تمام ویڈیوز یا مواد ممکنہ طور پر بلیک میل کرنے کے لیے اکھٹا کیا گیا تھا۔

امریکی خفیہ اداروں کا خیال ہے کہ روس اس طرح ٹرمپ پر کوئی خاص قسم سے اثر و رسوخ بڑھانا چاہتا ہے۔

 اس تناظر میں باراک اوباما نے این بی سی سے باتیں کرتے ہوئے کہا،’’آپ کو علم ہے کہ میں نے یہ رپورٹ نہیں دیکھی اور میں نے اس حوالے سے خبریں بھی نہیں دیکھیں۔ تاہم قومی سلامتی کا خیال کرتے ہوئے اور اصولی طور پر میں کسی بھی خفیہ معلومات پر تبصرہ نہیں کرتا۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ کانگریس اور ٹرمپ انتظامیہ مل کر ہیکنگ کے اِس اسکینڈل کے ذمہ داروں کا پتا لگانے کی کوشش کریں گے، جس نے حالیہ مہینوں کے دوران امریکی سیاست کو مصروف رکھا۔

 امریکی صدارتی انتخابات میں روس کی مبینہ مداخلت کے بارے میں گزشتہ ہفتے  جمعے کے روز خفیہ اداروں کے سربراہوں نے ٹرمپ کو آگاہ کیا تھا اور اسی دوران انہیں اِن دستاویزات کے بارے میں بھی بتایا گیا تھا۔ اس میں یہ بھی ذکر بھی کیا گیا ہے کہ انتخابی مہم کے دوران ٹرمپ کے لیے کام کرنے والے کچھ لوگ روسی ثالثوں کے ساتھ رابطے تھے۔ٹرمپ کے ایک قریبی ساتھی کیلین کونوے کے مطابق، ’’کچھ بھی تصدیق شدہ نہیں ہے۔‘‘