1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ٹرمپ کے دوسرے ’ٹریول بین‘ کے لیے پہلا قانونی دھچکا

امریکی صدر کے چھ مسلم اکثریتی ممالک کے شہریوں پر سفری پابندیوں کے نئے ایگزیکٹو آرڈر کو بھی قانونی مسائل کا سامنا ہے۔ ایک وفاقی عدالت نے ایک شامی مہاجر کے معاملے میں اس صدارتی حکم نامے کا نفاذ عارضی طور پر روک دیا ہے۔

شورش زدہ ملک شام سے تعلق رکھنے والے ایک مہاجر کی جانب سے دائر کیے گئے مقدمے کو سماعت کے لیے قبول کرتے ہوئے امریکا کی ایک وفاقی عدالت کے جج نے اس ایک قانونی معاملے میں صدر ٹرمپ کے نئے ایگزیکٹو آرڈر کے اطلاق کو عارضی طور پر روک دیا ہے۔ صدر ٹرمپ کے نئے حکم نامے کے لیے یہ پہلا قانونی دھچکا ہے۔

ٹرمپ نے سفری پاپندیاں کیا مذہبی بنیادوں پر عائد کیں؟ عدالت کا سوال

امریکی ریاست وسکانسن میں اس مقدمے کی سماعت کرنے والے جج ولیم کونلی کا کہنا تھا کہ اگر اس مدعی پر ایگزیکٹو آرڈر کا اطلاق کیا گیا، تو اسے ’ناقابل تلافی نقصان‘ پہنچنے کا اندیشہ ہے۔ شامی شہر حلب سے تعلق رکھنے والے اس باشندے کو پہلے ہی امریکا میں سیاسی پناہ دی جا چکی ہے۔ تاہم اس کی بیوی اور بچے ابھی تک حلب میں مقیم ہیں۔ خاندان کی حفاظت کے پیش نظر اس شامی مہاجر کا نام ظاہر نہیں کیا گیا۔

یہ عدالتی فیصلہ صدر ٹرمپ کے نئے حکم نامے کے لیے پہلا بڑا قانونی دھچکا ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ نے اپنا عہدہ سنبھالنے کے بعد سات مسلم اکثریتی ممالک کے شہریوں کے امریکا میں داخلے پر عارضی پابندی لگا دی تھی۔ تاہم امریکی عدالت نے ان کے اس صدارتی حکم نامے کو غیر قانونی قرار دے دیا تھا۔

صدر ٹرمپ نے رواں ہفتے پیر کے روز ایک نیا ایگزیکٹو آرڈر جاری کر دیا تھا۔ سفری پابندیوں کے اس نئے حکم نامے میں سے عراق کو نکال دیا گیا ہے تاہم شام، ایران، لیبیا، صومالیہ، یمن اور سوڈان سے تعلق رکھنے والے افراد کے امریکا میں داخلے پر نوے روز کی پابندی لگائی گئی ہے جب کہ اس نئے صدارتی حکم نامے کے مطابق مہاجرین کے امریکا میں داخلے پر بھی 120 روز کے لیے پابندی عائد ہے۔ نئے ٹریول بین پر عمل درآمد سولہ مارچ سے کیا جائے گا۔

وسکانسن میں ایک وفاقی عدالت کے جج نے شامی مہاجر کا مقدمہ سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے کہا، ’’عدالت نئے ایگزیکٹو آرڈر میں کی گئی تبدیلیوں کی قدر کرتی ہے۔ لیکن اس کا اطلاق مدعی پر بھی ہوتا ہے اور درخواست گزار کے معاملے میں عدالت محسوس کرتی ہے کہ اتنی معقول وجوہات پائی جاتی ہیں کہ مدعی کو گزشتہ فیصلوں کی روشنی میں کچھ موقع مل سکتا ہے۔‘‘

عدالتی فیصلے کے بعد ٹرمپ کے ایگزیکٹو آرڈر کا اطلاق عارضی طور پر اس شامی مہاجر پر نہیں کیا جائے گا۔ مقدمے کی باقاعدہ سماعت 21 مارچ سے شروع ہو گی۔

دوسری جانب کئی دیگر عدالتوں میں بھی مختلف ریاستوں، متاثرہ افراد اور مہاجرین کے حقوق کے لیے سرگرم تنظیموں نے ٹرمپ کے نئے حکم نامے کے خلاف درخواستیں دائر کر رکھی ہیں۔ انسانی اور شہری حقوق کے لیے سرگرم تنظیم اے سی ایل یو سے وابستہ عمر جدوات کے مطابق، ’’مسلمانوں کی امریکا میں داخلے پر پابندی کو کوئی اور نام دینے سے بنیادی مسئلہ حل نہیں ہوتا۔ ہمارے آئین اور قانون کے مطابق مذہب کی بنیاد پر امتیازی سلوک روا نہیں رکھا جا سکتا۔‘‘

DW.COM