1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ٹرمپ کے دور میں ایران کے اندر انقلاب کی ضرورت ہے: رضا پہلوی

ایران کے معزول بادشاہ کے بیٹے نے اپنے ملک میں ایک نئے انقلاب کو وقت کی ضرورت قرار دیا ہے۔ جلا وطن ولی عہد رضا پہلوی کے والد رضا شاہ پہلوی کو سن 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد ملک سے فرار ہونا پڑا تھا۔

رضا پہلوی نے ایک نئے انقلاب کے بعد ایران میں مذہبی حکومت کی جگہ پارلیمانی بادشاہت کو قائم کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔ اِس پارلیمانی بادشاہت کے خد و خال بیان کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ اس کے لازمی اجزا میں انسانی حقوق کا احترام اور ریاستی معیشت کو جدید خطوط پر استوار کرنا شامل ہو گا۔ پہلوی کے مطابق ایران میں انقلاب کے بعد قائم ہونے والی بادشاہت خلیجی عرب ریاستوں اور مغربی اقوام کو بھرپور تعاون فراہم کرے گی۔

سابق ایرانی بادشاہ کے بیٹے نے اپنا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے منصبِ صدارت سنبھالنے کے بعد دیا ہے۔ ٹرمپ واضح کر چکے ہیں کہ وہ مذہبی علماء کی قیادت میں قائم ایرانی حکومت کے خلاف انتہائی سخت موقف اپنائیں گے۔ اسی تناظر میں جلاوطن ایرانی شہزادے نے کسی ممکنہ انقلاب کو ٹرمپ کی صدارت کے ساتھ نتھی کیا ہے۔

Iran Kaiserin Farah Diba von Persien (picture-alliance/dpa/UPI)

ایرانی انقلاب کے بعد معزول ہونے والے بادشاہ رضا شاہ پہلوی اپنی اہلیہ فرح دیبا کے ساتھ مصر پہنچے تھے

نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے رضا پہلوی نے واضح کیا کہ ایران کی موجودہ حکومت میں اصلاح ممکن ہی نہیں کیونکہ اس کی فطرت میں اصلاحاتی عمل کی گنجائش ہی نہیں پائی جاتی۔ جلاوطن ایرانی شہزادے کے مطابق عوام بھی حکومت میں اصلاحاتی عمل پیدا نہ ہونے سے اکتا چکی ہے اور وہ سوچنے پر مجبور ہے کہ بنیادی تبدیلی اب ضروری ہو گئی ہے۔ پہلوی کے مطابق سب سے اہم سوال یہ ہے کہ ایران میں ایسی بنیادی تبدیلی کیونکر ممکن ہے۔

سن 1979 کے ولی عہد جب جلاوطن ہوئے تھے تو وہ محض سترہ برس کے تھے اور اب وہ پچپن برس کے ہو چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پہلوی خاندان کا جادوائی اثر اب بھی کئی ایرانی شہروں اور لاکھوں لوگوں میں موجود ہے۔ انہوں نے یہ واضح کرنے سے گریز کیا کہ وہ اس جادوئی اثر کو ایک عوامی تحریک کی صورت کیسے دے سکتے ہیں جو اُن کو ایرانی عوام کا ایک متبادل لیڈر بنا سکے۔

رضا پہلوی امریکا میں جلاوطنی کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔