1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

NRS-Import

ٹرمپ کے خلاف بعض امریکی شہروں میں مظاہرے

امریکا میں نیویارک سٹی اور ٹُوسان میں ٹرمپ کی حامی ریلیوں کو بھی مخالفین نے درہم برہم کرنے کی کوشش کی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ امریکی صدارتی الیکشن کے لیے ری پبلکن پارٹی کی نامزدگی حاصل کرنے کی دوڑ میں فرنٹ رنر ہیں۔

اِس ویک اینڈ پر سینکڑوں امریکی مظاہرین نے نیویارک سٹی اور جنوب مغربی ریاست ایریزونا کے شہر ٹُوسان میں ارب پتی سیاستدان ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف مظاہروں کے دوران مرکزی شاہراؤں کو بند کر دیا۔ رواں برس کے صدارتی الیکشن میں ری پبلکن پارٹی کی جانب سے نامزدگی حاصل کرنے والے امیدواروں میں ڈونلڈ ٹرمپ اپنے مخالف امیدواروں پر بھاری سبقت لیے ہوئے ہیں۔ ٹرمپ مخالف ریلیوں میں پولیس نے کچھ گرفتاریاں بھی کیں ہیں۔ ایریزونا کے شہر ٹُوسان میں ٹرمپ کے خلاف آواز بلند کرنے پر ایک احتجاجی کو تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا۔

ایریزونا میں جس شخص کو ٹرمپ کے حامیوں نے مارا، وہ ایک ایسا پوسٹر اٹھائے ہوئے تھا جس پر’’ Bad For America ‘‘ لکھا ہوا تھا۔ ٹرمپ کے حامیوں نے اِس شخص کے چہرے پر مکوں اور ٹھڈوں کی بارش کر دی۔ اِس زخمی شخص کو بعد میں سکیورٹی اہلکاروں نے اپنے حصار میں لے کر محفوظ مقام پر منتقل کیا۔ اِس واقعے کی ویڈیو امریکی ٹیلی وژن چینل این بی سی نے نشر بھی کی ہے۔ زخمی ہونے والے شخص پر حملہ کرنے والے ایک شخص کو ہتھکڑی لگا کر پولیس موقع واردات سے لے گئی تھی۔ اُس پر حملہ کرنے اور زخمی کرنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

یویارک سٹی کے کولمبس سرکل کے قریب بھی سینکڑوں ٹرمپ مخالفین نے ایک مظاہرے میں شرکت کی۔ اِسی کولمبس سرکل کے قریب ہی ارب پتی ڈونلڈ ٹرمپ کی ایک بلند و بالا لگژری عمارت واقع ہے۔ پولیس کی بھاری نفری مظاہرین کو آگے بڑھنے سے روکے ہوئے تھی۔ اِسی شہر میں پولیس کے ساتھ جھگڑا کرنے پر ایک شخص کو حراست میں بھی لیا گیا۔ ٹرمپ مخالف مظاہرے کا انتظام کاسموپولیٹن اینٹی فاشسٹس نامی تحریک نے کیا تھا۔ شرکاء ایسے بے شمار بینر اٹھائے ہوئے تھے جن پر ٹرمپ کے خلاف سخت الفاظ درج تھے۔ ان میں سے ایک پر ’ٹرمپ کو بیدخل کیا جائے‘ اور ایک دوسرے پر ’ٹرمپ کے ارد گرد دیوار کھڑی کی جائے‘ لکھا ہوا تھا۔

USA Tucson Trump Wahlkampfveranstaltung Gewalt Faustschlag

ٹوسان میں ٹرمپ مخالف کو مکا مارا جا رہا ہے

ایک نوجوان امریکی دانشور اور تاریخ کے ماہر پیٹرک والڈو نے نیوز ایجنسی اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ نسل پرست، جنس زدہ، انسان دشمن، اسلام مخالف اور اجانب دشمنی کا مارا ہوا ایک شخص ہے اور اگر وہ امریکا کا صدر بن گیا تو اِس ملک کے مستقبل پر انتہائی گہرے منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ والڈو نے مزید کہا کہ اگر امریکا کی سرحدیں مذہب کے نام پر بند کرنے کا عمل شروع کر دیا گیا تو یہ ایک تو غیر دستوری فعل ہو گا اور دوسری عالمی جنگ کے نازی جرمنی جیسی صورت حال پیدا ہو جائے گی۔ ایک نوجوان مسلمان خاتون نُور ہپتشا کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا ہر لفظ نسل پرستانہ، غلط اور دوسروں کے جذبات مجروح کرنے والا ہوتا ہے۔