1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ٹرمپ کے بیان نے پاکستانیوں کو تکلیف پہنچائی، عمران خان

عمران خان کا کہنا ہے کہ پاکستان کے حوالے سے امریکی صدر ٹرمپ کے حالیہ بیان سے نہ صرف پاکستانی قوم کو تکلیف پہنچی ہے بلکہ یہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہزاروں جانوں کی قربانیاں دینے والے اس ملک کے لیے باعث تضحیک بھی ہے۔

پاکستان کی اہم سیاسی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے  نے بین الاقوامی نیوز چینل سی این این کے ایک پروگرام میں انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان وہ ملک ہے جس نے امریکا کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شامل ہو کر ستر ہزار جانوں کی قربانیاں دی ہیں۔ خان کا کہنا تھا کہ اس جنگ کے باعث پاکستان کی معیشت کو ایک سو ارب ڈالر کے خسارے کا سامنا کرنا پڑا ہے،  اس جنگ کے دوران  ایک ایسا وقت بھی آیا جب پاکستان کے قبائلی علاقوں کی اسّی فیصد آبادی نقل مکانی پر مجبور ہوئی تھی۔

عمران خان نے کہا،’’ پاکستان کو قربانی کا بکرا بنایا جا رہا ہے اور یہ الزام عائد کیا جارہا ہے کہ افغانستان میں امریکا کی ناکامی کی وجہ پاکستان ہے۔ یہ پاکستانیوں کے لیے بہت تکلیف دہ ہے۔‘‘ عمران خان نے سی این این کی اینکر ہالا گورانی کے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا،’’ کیا یہ ممکن ہے کہ افغانستان میں ایک لاکھ سے زیادہ بین الاقوامی افواج کی موجودگی کے باوجود پاکستان سے مبینہ طور پر افغانستان میں دہشت گردی کے مقصد سے داخل ہونے والے حقانی نیت ورک کے چند سو جنگجوؤں کی وجہ سے افغانستان میں بدامنی ہو ؟‘‘

پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ نے کہا کہ امریکا نے افغانستان میں کبھی مکمل طور پر سیاسی حل ڈھونڈنے کی کوشش ہی نہیں کی۔  پی ٹی آئی کے سربراہ کا انٹرویو کے دوران یہ بھی کہنا تھا کہ وہ پاکستان کی حکومت کو یہ مشورہ دیں گے کہ اسلام آباد حکومت امریکی امداد کے بغیر گزارا کر سکتی ہے۔ خان کے بقول ،’’ پاکستان کو امریکی امداد کی بہت بھاری قیمت چکانا پڑی ہے۔‘‘

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے رواں ہفتے بالخصوص افغانستان اور بالعموم جنوبی ایشیا کے حوالے سے اپنی پالیسی کا اعلان کیا ہے۔ پالیسی بیان میں ٹرمپ  نے پاکستان پر عسکریت پسندوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرنے کا الزام عائد کیا اور پاکستان کو خبردار بھی کیا کہ اگر اُس نے اس حوالے سے اپنی پالیسی تبدیل نہ کی تو پاکستان کو دی جانے والی امریکی امداد بند کر دی جائے گی۔

امریکا پاکستان کے سلامتی کے تحفظات کا احترام کرے، چین

ٹرمپ کی افغان پالیسی پاکستان میں زیرِ بحث

اپنے انٹرویو میں سابق کرکٹر  نے کہا کہ ٹرمپ کی پاکستان کے حوالے سے  پالیسی درست نہیں۔ خان نے انٹرویو کے دوران سوال کیا ،’’ اگر  مزید فوجی افغانستان بھیجے جائیں گے تو وہ ایسا کیا کر لیں  گے جو وہاں پر  پہلے سے موجود نیٹو فوجی نہیں کر سکے۔ ؟‘‘

 عمران خان کی رائے میں امریکا کو افغانستان سے نکلنا ہوگا۔  پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ نے مزید کہا کہ امریکا کو افغانستان سے متعلق پالیسی چین، ایران، اور روس کے ساتھ مل کر بنانی چاہیے اور طالبان کے ساتھ مذاکرات کا راستہ اختیار کرتے ہوئے افغانستان میں ایک متفقہ حکومت قائم کرنے پر غور کرنا چاہیے۔

DW.COM