1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ٹرمپ کے ’بھونکنے‘ سے کوئی فرق نہیں پڑے گا، شمالی کوریا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی شمالی کوریا کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی دھمکی کے بعد پیونگ یانگ کی جانب سے سخت رد عمل  سامنے آیا ہے۔ اس کمیونسٹ ریاست نے ٹرمپ کے بیان کو ’’کتے کے بھونکنے‘‘ سے تعبیر کیا ہے۔

شمالی کوریا کے وزیر خارجہ ری یونگ ہُو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اس کمیونسٹ ریاست کو عسکری کارروائی کے ذریعے مکمل طور پر تباہ کر دینے کی دھمکی کے بارے میں کہا ہے کہ یہ ’’کتے کے بھونکنے جیسا‘‘ ہے۔ یونگ ہُو کے بقول، ’’اگر وہ یہ سوچتے ہیں کہ وہ اپنے اس بھونکنے سے ہمیں خوف زدہ کر دیں گے تو یہ واقعی کسی کتے کا خواب ہو سکتا ہے۔‘‘

شمالی کوریائی وزیر خارجہ نے یہ بیان نیو یارک میں دیا، جہاں وہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے پہنچے ہیں۔ ٹرمپ نے منگل 19 ستمبر کو جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب میں شمالی کوریائی رہنما کم یونگ اُن کو ’راکٹ مین‘ کہا تھا۔

شمالی کوریا پر امریکی صدر سے واضح اختلاف ہے، جرمن چانسلر

ٹرمپ کا مخصوص لہجہ، کیا کشیدگی میں اضافہ ہو گا؟

پیونگ یانگ سے براہ راست مذاکرات کیے جائیں، جرمنی

اپنے اس خطاب میں ٹرمپ نے پیونگ یانگ کو خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر امریکا کو اپنے یا اپنے حلیفوں کے دفاع پر مجبور کیا گیا تو، ’’ہمارے پاس شمالی کوریا کو مکمل طور پر تباہ کرنے کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں ہو گا۔‘‘ ٹرمپ نے اس کمیونسٹ ریاست کے ساتھ ساتھ ایران کو بھی شدید ہدف تنقید بنایا تھا۔

 شمالی کوریائی وزیر خارجہ ری یونگ ہو نے مزید کہا کہ انہیں ٹرمپ کے مشیروں کے ساتھ ہمدردی ہے۔ یونگ ہو کل جمعہ 22 ستمبر کو جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے۔ اسی ماہ کے آغاز میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے شمالی کوریا پر جوہری اور بیلسٹک میزائل تجربوں کے تناظر میں نئی پابندیاں عائد کی ہیں۔

ویڈیو دیکھیے 00:35

کیا شمالی کوریا کے خلاف فوجی کارروائی ہونی چاہیے؟

 

DW.COM

Audios and videos on the topic